نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

August, 2018 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فیصلہ کن لمحے

کچھ لمحے بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کون کس شخص کا سیارہ بنایا جائے گا۔ جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر ٹھوس مائع اور مائع گیس میں بدل جاتا ہے‘ اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، اس وقت ایک قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کر دی جاتی ہیں۔ پھر جو وقت پہلے قلب میں رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے‘ جو موسم‘ جو رُت‘ جو پہلے دن میں طلوع ہوتا ہے وہی دوسرے آئینے منعکس ہو جاتا ہے۔ دوسرے قلب کی اپنی زندگی ساکت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں صرف بازگشت کی آواز آتی ہے۔
بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سے اقتباس


خدا سے محبت

ہمیں خدا سے ایسی محبّت ھونی چاہیے جیسے بہن اور بھائی کی محبّت ہوتی ہے یا ماں اور بچے کی محبّت ہوتی ہے. ایسی محبّت نہیں ھونی چاہیے جو عاشق و معشوق یا میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے. پہلی قسم کی لوگ اپنی محبّت کا اظہار برملا کرسکتے ہیں ، جلوت میں، خلوت میں، گھر میں، سراہے میں ، محفل میں, تنہائی میں لیکن دوسری قسم کی محبّت کرنے والے صرف خلوت میں اور تنہائی میں اپنی محبّت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں ہمیں ان لوگوں کی پیروی نہیں کرنی چاہے جو کہتے ہیں ہم خدا سے محبّت کا اظہار صرف مسجد یا مراقبے میں یا درگاہ کی اندر کرسکتے ہیں, ہمیں تو اپنی محبّت کا اظہار ہر جگہ کرنا ہے اور ہر مقام پہ کرنا ہے... ہر شخص سے کرنا ہے اور ہر موسم میں کرنا ہے اس میں چھپنا یا چھپانا نہیں ہے۔ بابا صاحبا سے اقتباس


اللہ کا پسندیدہ فعل

محمد حسین: لیکن سرکار، یہ رنگا رنگ مورتیاں۔۔۔ یہ شکلیں شباہتیں۔۔۔ یہ دھینگا مشتی۔۔۔ مار دھاڑ۔۔۔ کھینچا تانی، یہ کیا؟
ارشاد: میاں محمد حسین صاحب راج دلارے! نہ کوئی ساجد ہے نہ مسجود۔۔۔ نہ عابد نہ معبود۔۔۔ نہ آدم نہ ابلیس۔۔۔ صرف ایک ذات قدیم صفات رنگارنگ میں جلوہ گر ہے۔ نہ اس کی ابتداء نہ انتہاء۔۔۔ نہ کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا۔۔۔ نہ فہم قیاس میں آئے نہ وہم گماں میں سمائے۔۔۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے اور جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔۔۔ نہ گھٹے نہ بڑھے، نہ اترے نہ چڑھے۔۔۔ وہ ایک ہے، لیکن ایک بھی نہیں کہ اس کو موجودات سے اور موجودات کو اس سے الگ سمجھنا نادانی اور مورکھتا ہے۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگا پروفیشن موجود ہیں۔ ایسے ہی خداشناسی اور خدا جوئی بھی ایک دھندہ ہے۔
محمد حسین: جب اس کا کوئی سر پیر ہی نہیں حضور تو پھر ڈھونڈنے والا کیا ڈھونڈے اور کرنے والا کیا کرے؟
ارشاد: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا، یا مولا! تیری بارگاہ میں میرا کون سا فعل پسندیدہ ہے تا کہ میں اسے ذیادہ کروں اور بار بار کروں۔ حکم ہوا یہ فعل ہم کو پسند آیا کہ جب بچپن میں تیری ماں تجھے مارا کرتی تھی تو مار کھا کر بھی اسی…

ماضی کا البم

انسانی زندگی میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ آدمی کو کسی چیز سے ایسی چڑ ہو جاتی ہےکہ اس کا کوئی خاص جواز نہیں ہوتا مگر یہ ہوتی ہے- اور میں اُن خاص لوگوں میں سے تھا جس کو اس بات سے چڑ تھی کہ "دروازہ بند کر دو-“ بہت دیر کی بات ہے کئی سال پہلے کی، جب ہم سکول میں پڑھتے تھے، تو ایک انگریز ہیڈ ماسٹر سکول میں آیا- وہ ٹیچرز اور طلباء کی خاص تربیت کے لئے متعین کیا گیا تھا - جب بھی اُس کے کمرے میں جاؤ وہ ایک بات ہمیشہ کہتا تھا-  "Shut The Door Behind You!" پھر پلٹنا پڑتا تھا اور دروازہ بند کرنا پڑتا تھا- ہم دیسی آدمی تو ایسے ہیں کہ اگر دروازہ کُھلا چھوڑ دیا تو بس کُھلا چھوڑ دیا، بند کر دیا تو بند کر دیا، قمیص اُتار کے چارپائی پر پھینک دی، غسل خانہ بھی ایسے ہی کپڑوں سے بھرا پڑا ہے، کوئی قاعدہ طریقہ یا رواج ہمارے ہاں نہیں ہوتا کہ ہر کام میں اہتمام کرتے پھریں- یہ کہنا کہ دروازہ بند کر دیں، ہمیں کچھ اچھا نہیں لگتا تھا اور ہم نے اپنے طورپر کافی ٹریننگ کی اور اُنہوں نے بھی اس بارے میں کافی سکھایا لیکن دماغ میں یہ بات نہیں آئی کہ بھئی دروازہ کیوں بند کیا جائے؟ رہنے دو ،کُھلا ک…

ان پڑھ سقراط

میں کب سے آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں اور آپ کے ارشاد کے مطابق وہی گن گاتا رہا ہوں جن کی آپ کو ضرورت تھی۔ آج میں آپ سے ایک اجازت مانگنے کی جرات کر رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھے اس بات کی اجازت دیجیے کہ میں دبی زبان کی بجائے اونچی آواز میں یہ کہہ سکوں کہ جو انسان ان پڑھ ہوتا ہے اس کے پاس بھی اچھا اور ہائپوتھیلمس دماغ ہوتا ہے۔ وہ بھی سوچ سکتا ہے، وہ بھی سوچتا ہے۔ وہ بھی فاضل ہوتا ہے اور ہنر مند ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اور خاص طور پر ہمارے علاقے میں یہ بات بہت عام ہو گئی ہے کہ صرف پڑھا لکھا آدمی ہی لائق ہوتا ہے اور جو “ پینڈو “ آدمی ہے اور انگوٹھا چھاپ ہے اس کو اللہ نے دانش ہی نہیں دی ہے۔ اس سوچ نے ہماری زندگیوں میں ایک بہت بڑا رخنہ پیدا کر دیا ہے اور ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گۓ ہیں۔ ہمیں سیاسی، سماجی اور نفسیاتی طور پر بڑی شدت کا نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ دوسرے ملکوں والے اپنی اجتماعی زندگی میں اس نقصان کے متاثرہ نہیں ہیں۔ ہماری چودہ کروڑ کی اتنی بڑی کمیونٹی ہے۔ اس کو ہم نے ایک طرف رکھا ہوا ہے اور میں آپ اور ہم سب جو سمجھدار لوگ ہیں جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ دو لاکھ بنتی ہے ہم نے سارا حساب و …

عشق حقیقی، عشق مجازی

"اپنی انا اور نفس کو ایک انسان کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق حقیقی ہے، اصل میں دونوں ایک ہیں۔ عشق حقیقی ایک درخت ہے اور عشق مجازی اسکی شاخ ہے۔ جب انسان کا عشق لاحاصل رہتا ہے تو وہ دریا کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے، چھوٹے راستے سے ہٹ کر بڑے مدار کا مسافر بن جاتا ہے۔۔۔ تب، اس کی طلب، اس کی ترجیحات بدل جاتیں ہیں۔"
زاویہ سوئم، باب :محبت کی حقیقت سے اقتباس


محبت کا طوق

آزادی اکیلے آدمی کا سفر ہے، رسی تڑوا کر سرپٹ بھاگنے کا عمل ہے۔ محبت اپنی مرضی سے کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھے رہنے کی صلاحیت ہے۔ محبت اس غلامی کا طوق ہے جو انسان خود اپنے اختیار سے گلے میں ڈالتا ہے۔ یہ عہد پیری مریدی کا نہیں کہ مرشد منوائے اور سالک ماننے کے مقام پر ہو۔ یہ زمانہ شادی کا بھی نہیں کہ شادی میں بھی قدم قدم پر اپنی مرضی کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ حضرت ابراھیم جس طرح اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر راضی بر رضا رہے، یہ محبت کی عظیم مثال ہے۔ محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا "شرک" ہے، کیوں کہ بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی، محبوب سے بھی اور اپنے آپ سے بھی۔ محبت غلامی کا عمل ہے اور آزاد لوگ غلام نہیں رہ سکتے۔
بانو قدسیہ کے ناول حاصل گھاٹ سے اقتباس


ماننے والا شخص

خواتین و حضرات اپنے دکھ اور کوتاہیاں دور کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم تسلیم کرنے والوں میں، ماننے والوں میں شامل ہو جائیں اور جس طرح خداوند تعالٰی کہتا ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ابو دین میں پورے کے پورے کس طرح داخل ہو جائیں تو میں اس کو کہتا ہوں کہ جس طرح سے ہم بورڈنگ کارڈ لے کر ایئر پورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر جہاز میں بیٹھ کر ہم بے فکر ہو جاتے ہیں کہ یہ درست سمت میں ہی جائے گا اور ہمیں اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ جہاز کس طرف کو اڑ رہا ہے۔ کون اڑا رہا ہے بلکہ آپ آرام سے سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ کو کوئی فکر فاقہ نہیں ہوتا ہے۔ آپ کو اپنے دین کا بورڈنگ کارڈ اپنے یقین کا بورڈنگ کارڈ ہمارے پاس ہونا چاہیے تو پھر ہی خوشیوں میں اور آسانیوں میں رہیں گے وگرنہ ہم دکھوں اور کشمکش کے اندر رہیں گے اور تسلیم نہ کرنے والا شخص نہ تو روحانیت میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی سائنس میں داخل ہو سکتا ہے۔ جو چاند کی سطح پر اترے تھے جب انہوں نے زمین کے حکم کے مطابق ورما چلایا تھا تو اس نے کہا کہ ورما ایک حد سے نیچے نہیں جا رہا۔ جگہ پتھریلی ہے لیکن نیچے…

تعلیم و تربیت کا فقدان

جب تک ہم میں تعلیم کا فقدان رہے گا اور جب تک تعلیم یافتہ لوگوں کی تربیت درست انداز، خطوط اور سطح پر نہیں ہو گی اس وقت تک ہم ایسی الجھنوں کا شکار ہوتے رہیں گے اور اس میں مبتلا ہوتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جو صاحبانِ اختیار و اقتدار ہیں اور جن کے ہاتھ اور قبضے میں لوگوں کی زندگیوں کی قدرت ہے ان کو دوبارہ اپنے آپ کو بھی درست کرنا چاہئے اور اس تعلیم کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ اس حوالے سے تربیت کی واقعی ضرورت ہے۔ تربیت حاصل کرنے کے لئے کوئی اور راستہ اختیار کیا جانا چاہئے۔ میں تو اکثر ایک ہی بات کہا کرتا ہوں کہ جب تک آپ اپنے 14کروڑ بھائیوں کو ان کو عزتِ نفس نہیں لوٹائیں گے آپ پوری طرح سے بٹے رہیں گے اور کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ان کو ان کی عزت لوٹا دیجیئے اوران کو سلام کیجیئے۔ آپ کے گھر دانوں سے بھر جائیں گے اور آپ کی "چاٹیاں" مکھن سے لبریز ہو جائیں گی۔
زاویہ دوئم سے اقتباس




میرا اللہ کہاں ہے؟

مجھ میں یہ کمی ہے کہ مجھے ایسا وقت نہیں ملتا۔ ایسی دھوپ نہیں ملتی۔ ایسا لان نہیں ملتا کہ جہاں پر میں ہوں اور میرا پالن ہار ہو اور کچھ نہ کچھ اس سے بھی بات ہو۔ عبادت اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ خود فرماتا ہے کہ جب تم نماز ادا کر چکو تو پھر میرا ذکر شروع کرو۔ لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے، پہلو کے بل۔ یعنی یہ بھی اجازت دی کہ جس طرح سے چاہو مرضی کرو۔ لیکن آدمی ایسا مجبور ہے کہ وہ اس ذکر سے محروم رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچیں کہ اس وقت میرا اللہ کہاں ہے؟ کیسے ہے؟ شہ رگ کے پاس تو ہے ہی، لیکن میں کیوں خالی خالی محسوس کرتا ہوں تو پھر آپ کو ایک آواز سے، ایک وائبریشن سے، جسے بدن کا ارتعاش کہتے ہیں، اس سے پتا چلتا ہے۔ یہ بڑے مزے کی اور دلچسپ باتیں ہیں، لیکن ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہم اس طرف جا ہی نہیں سکتے اور اللہ نے چاہا تو جوں جوں وقت آگے بڑھتا جائے گا، ہمارے اندر شعور کی لہریں اور بیدار ہوتی چلی جائیں گی۔ ہم پہنچیں گے ضرور، جس طرح سے "کے ٹو" کی برفوں سے بہنے والا ایک چھوٹا سا نالہ دھکے کھاتا ہوا، جغرافیہ جانے بغیر، نقشہ لیے بغیر سمندر کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور ایک دن سمندر میں …

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

میں کون ہوں؟

بہت دیر کا وعدہ تھا جو جلد پورا ہونا چاہئے تھا ، لیکن تاخیر اس لئے ہو گئی کہ شاید مجھ پر بھی کچھ اثر میرے پڑوسی ملک کا ہے کہ اس نے کشمیریوں کے ساتھ بڑی دیر سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ہم وہاں رائے شماری کرائیں گے۔ لیکن آج تک وہ اسے پورا نہ کر سکے۔ حالانکہ وہ وعدہ یو این او کے فورم میں کیا گیا تھا، لیکن میری نیت ان کی طرح خراب نہیں تھی۔ میں اس دیر کے وعدے کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسانی وجود کی پرکھ، جانچ اور اس کی آنکھ دیگر تمام جانداروں سے مختلف بھی ہے اور مشکل بھی۔ جتنے دوسرے جاندار ہیں ان کو بڑی آسانی کے ساتھ جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے لیکن انسان واحد مخلوق ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ تو باہر کا کوئی شخص کر سکتا ہے اور نہ خود اس کی اپنی ذات کر سکتی ہے۔ انسانی جسم کو ماپنے، تولنے کے لئے جیسے فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کا قد ماپیں گے، وزن کریں گے، جسم کی سختی کو ملاحظہ کریں گے، بینائی دیکھیں گے یعنی باہر کا جو سارا انسان ہے، اس کو جانچیں اور پرکھیں گے اور پھر انہوں نے جو بھی اصول اور ضابطے قائم کئے ہیں، اس کے مطابق چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اندر کی مشینر…

چھوٹا اور بڑا کام۔۔۔

رزق کا بندوبست کسی نہ کسی طرح اللہ تعالٰی کرتا ہے، لیکن میری پسند کے رزق کا بندوبست کسی نہ کسی طرح اللہ تعالٰی کرتا ہے، لیکن میری پسند کے رزق کا بندوبست نہیں کرتا- میں چاہتا ہوں کہ میری پسند کے رزق کا انتظام ہونا چاہئے- ہم اللہ کے لاڈلے تو ہیں۔ لیکن اتنے بھی نہیں جتنے خود کو سمجھتے ہیں۔ ہمارے بابا جی کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی آدمی آپ سے سردیوں میں رضائی مانگے تو اُس کے لیے رضائی کا بندوبست ضرور کریں، کیونکہ اُسے ضرورت ہو گی- لیکن اگر وہ یہ شرط عائد کرے کہ مجھے فلاں قسم کی رضائی دو تو پھر اُس کو باہر نکال دو، کیونکہ اس طرح اس کی ضرورت مختلف طرح کی ہو جائے گی۔ وقت کا دباؤ بڑا شدید ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ برداشت کے ساتھہ حالات ضرور بدل جائیں گے، بس ذرا سا اندر ہی اندر مُسکرانے کی ضرورت ہے- یہ ایک راز ہے جو سکولوں، یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں نہیں سکھایا جاتا- ایسی باتیں تو بس بابوں کے ڈیروں سے ملتی ہیں- مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ اشفاق صاحب کوئی بابا بتائیں- میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ کیا کریں گے؟ کہنے لگے، اُن سے کوئی کام لیں گے- نمبر پوچھیں گے انعامی بانڈز کا-…

حکمت کی باتیں، دوم

قول ایک سواری ہے، جس پر سوار ہو کر ہم عمل کی منزل کے کنارے پر پہنچتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہم کرتے یوں ہیں کہ عمل کے کنارے پہ پہنچ کے بھی قول کی کشتی کی سواری کو نہیں چھوڑتے اور اس میں سوار ہی رہتے ہیں اور عمل کی منزل کا کنارہ ہمارے سامنے ہمارے آس پاس ہی گھومتا رہتا ہے۔ ---------------------------------------------------------- جو حق دار ہیں۔۔۔۔۔۔ان کو بھی دو۔۔۔۔۔۔اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے۔۔۔۔اس کو بھی دو۔۔۔۔۔۔۔تا کہ تجھے جو ناحق کا مل رہا ہے، کہیں وہ ملنا بند نہ ہو جائے۔

بھائی والی کا رشتہ

آج سے کئی ہفتے قبل میں نے اپنے بابا جی نور والے کا ایک واقعہ بیان کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تو نے رکشہ والے کو کون سے پلےسے پیسے دیۓ تھے۔ وہ “دتے" میں سے ہی تو دیۓ تھے“اگر سوا چار روپے بنتے تھے تو پورے پانچ روپے ہی دے دیۓ ہوتے۔ ڈیرے پر جانے سے ہمارے دوست ابنِ انشاء بڑے ناراض ہوتے تھے۔ انہوں نے مجھے ناراض ہو کر کہا کہ “تو وہاں کیا کرنے جاتا ہے؟ یہ ڈیرے فضول جگہیں ہیں“ لوگ وہاں بیٹھ کے روٹیاں کھاتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور پھر اٹھ کر چلے آتے ہیں انہیں وہاں سے کیا ملتا ہے؟ میں نے رکشہ والا واقعہ ابن انشاء کو بھی سنایا اور اس نے اپنے ذہن کے نہاں خانے میں یہ واقعہ ایسے نوٹ کر لیا کہ مجھے اس دن کے واقعہ سے وہ کچھ نہیں ملا جو اس نے حاصل کر لیا اور پھر وہ “دتے" میں سے دیتا رہا اور ابنِ انشاء کی زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آیا کہ وہ دے دے کر تنگ آگیا اور اس نے کہا کہ اب میں کسی کو ٹکا تو دور کی بات ٹکنی بھی نہیں دیتا کیونکہ اس طرح دتے میں سے دینے سے میرے پاس اتنے پیسے آنے شروع ہو گۓ ہیں کہ میں پیسے جمع کرانے کے لیے بینک کی سلیپیں بھی نہیں بھر سکتا (وہ بھی ہماری طرح سست آد…