نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فوکس


سورج جب چمکنے لگتا ہے تو بڑی روشنی ہوتی ہے۔۔۔۔ دن چڑھ آتا ہے، دھوپ پھیلتی ہے، حدت ہوتی ہے، تپش ہوتی ہے، لیکن یہ پھیلی ہوئی گرمی جلاتی نہیں آگ نہیں لگاتی۔ اور جب یہ روشنی یہ دھوپ ایک قطے پہ مرکوز ہوتی ہے تو آگ لگتی ہے، کاغذ جل اٹھتا ہے۔۔۔۔۔۔ اصل میں سارا راز ایک نقطے پر مرکوز ہونے میں ہے۔ خواہش ہو، ارادہ ہو، دعا ہو یہ ساری کی ساری ہماری وِل کی صورتیں ہیں۔۔۔ نیم رضا۔۔۔۔ نیم گرم۔۔۔۔ نیم جاں۔۔۔۔ ارادے کی صورت۔ لیکن جب تک ہمارے ارادے کی تپش کسی مرکز پر فوکس نہیں ہوتی وہ جلا نہیں سکے گی، بھڑک نہیں سکے گی، بھڑکا نہیں سکے گی۔



من چلے کا سودا صفحہ 189