نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

April, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دکھوں کی البم

ایک زمانے میں ، میں ایک پرچہ ، رسالہ نکالتا تھا ۔ ماہنامہ بڑا خوبصورت رنگین " داستان گو " اس کا نام تھا ۔ تو ہماری مالی حالت درمیانی تھی ۔ لیکن اس پرچے کو نکالنا میں اپنا فرض سمجھتا تھا ۔ کیوں کہ لوگوں کو وہ بہت پسند آگیا تھا ۔ تو اتنے پیسے نہیں تھے ۔ ایک دفعہ اس کا کاغذ خریدنے کے لیے گیا ۔ یہاں ایک گنپت روڈ ہے ، وہاں پر کاغذ کی مارکیٹ ہے ۔ وہاں کاغذ خریدنے گیا تو کاغذ کا ایک رِم خریدا تو میرے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ میں اس کاغذ کے رِم کو کسی تانگے میں ، کسی رکشہ میں یا کسی ریڑھی میں رکھ کے لے آتا تو میں نے کاغذ کا رِم لیا اسے دوہرا کیا اور کندھے پر رکھ لیا ۔ بائیسکل میں چلاتا تھا بڑی اچھی بائیسکل تھی میرے پاس ۔ تو میں سائیکل پر سوار ہوگیا اور جب چلا تو انار کلی میں اُس وقت بھی خاصا رش ہوا کرتا تھا ۔ تانگے آ رہے ہیں،ریڑھے آ رہے ہیں، سائیکلیں اور جو بھی اس زمانے کی ٹریفک تھی وہ چل رہی تھی ۔ تو کرنا خدا کا کیا ہوا کہ وہ کاغذ کا جو رِم ہے ، اس کے جو بیٹن لگا ہوتا ہے اوپر کا ، مضبوط خاکی کاغذ وہ پھٹ گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے چھر۔ر۔ر۔ر۔ر۔کر کے پانچ سو کاغذ جو تھے و…

طالب خدا

انسان کو جس چیز میں کمال ہوتا ہے اس پر مرتا ہے ۔ چنانچہ دھنتر دید کو سانپ پکڑنے میں کمال تھا ، اس کو سانپ نے کاٹا اور مر گیا ۔ ارسطو سل کی بیماری میں مرا ۔ افلاطون فالج میں ۔ لقمان سرسام میں اور جالینوس دستوں کے مرض میں حالانکہ انہیں بیماریوں کے علاج میں کمال رکھتے تھے ۔ اس طرح جس کو جس سے محبت ہوتی ہے اسی کی خیال میں جان دیتا ہے ۔ قارون مال کی محبت میں مرا ، مجنوں لیلیٰ کی محبت میں ۔ اسی طرح طالبِ خدا کو خدا کی طلبی کی بیماری ہے وہ اسی میں فنا ہو جاتا ہے ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 409

مذاق

زمانے نے عجب پلٹا کھایا ہے ۔ پچھلے لوگ چھپ کر عبادت اس لیے کرتے تھے کہ کہیں شہرت نہ ہو جائے اور اب اس لیے چھپا کر کرتے ہیں کہ کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں۔



اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 615

گھمنڈ

حضور بڑے گناہ کیے ۔ بڑے عیب کمائے ، بڑی بربادیاں کیں ، لیکن اب رحمتوں کے دروازے کھل گئے ۔ اب پاکی ہی پاکی ہے ۔ صفائی ہی صفائی ہے ۔ سارے گناہ چھوڑ دیے ۔ سارے جھوٹ ، اپرادھ ۔ پاپ کناس دفع کر دیے ۔ ساری بدی برائی چھوڑ دی ، سارے گناہ جھاڑ دیے ۔ بابا جی نے بڑی محبت سے کہا ! جہاں اتنا زور لگا کر بدی برائی چھوڑ دی ہے ، اب یہ نیکی بھی چھوڑ دو اور آزاد ہو جاؤ۔ اس نئے گھمنڈ سے تو وہ پرانے والا تکبر ہی اچھا تھا ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 373

گھن

ہمارے بابے کہا کرتے ہیں کہ باہر کے جسم کو بیماریوں سے بچانے کے لئے اپنے اندر کو بیماریوں سے مبرا کرنا چاہیے ۔ درخت جس کے اندر بیماری ہو اور اسے گھن لگا ہوا ہو اور اندر ہی اندر سے وہ کھوکھلا ہوتا جا رہا ہو ، اور ہم اس کی اصل بیماری کا علاج کرنے کے بجائے اسے باہر سے سپرے کرتے رہیں ۔ اسے روشنیاں یا بلب لگا دیں تو ہم اس سے درخت کی اندر کی بیماری کو نہیں روک سکتے ۔ وہ تب ہی ٹھیک ہوگا جب ہم اس کی جڑوں یا تنوں کی مٹی کھود کر اس میں چونا ڈالیں گے ، کیڑے مار ادویات ڈالیں گے ، اور اسے پانی دیں گے ۔ ایسا ہی انسان کا حال ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنی روح کے اندر اپنا احاطہ ضرور کریں ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 پندرہ روپے کا نوٹ صفحہ 48