نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

May, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نیک عمل

خواتین و حضرات ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " نماز پڑھو اور روزے رکھو اور نیک عمل کرو " ۔ اب میں بڑا حیران بھی ہوتا ہوں اور پھنس جاتا ہوں کہ میں نے جب نماز پڑھ لی ، روزہ رکھ لیا تو کیا یہ نیک عمل نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تیسری، نیک عمل کی کیٹیگری کیوں بنائی ہے ۔ میں اب تک کشمکش میں پھنسا ہوا ہوں کہ نیک عمل کیسے کیے جائیں ۔ میری طرح آپ بھی جب کسی نیک عمل کے بابت سوچیں گے تو آپ کو ارد گرد پر نظر دوڑانی ہوگی ۔ کیوں کہ نیک عمل کے لیے آپ کو بندہ یا جاندار ڈھونڈنا ہوگا ۔ کسی بڑی اماں کو پاس بٹھا کر پوچھنا ہوگا کہ " اماں روٹی کھادی اے کہ نئیں کھادی ۔ تیرے پت نے تینوں ماریا سی، ہن تا نئیں ماردا " ۔ یہ نیک عمل ہے ۔ کسی دوست سے اچھی بات کرنا نیک عمل کے زمرے میں آتا ہے ابا جی کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کا نام نیک عمل ہے ۔ لیکن یہ نیک اعمال کرنے خیر سے ہم نے چھوڑ رکھے ہیں ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 لائٹ ہاؤس صفحہ 71

نفس کے بندے

ایک بادشاہ تھے ان کے ایک پیر تھے - اور ان کے بہت بہت پیروکار اور مرید تھے ۔
بادشاہ نے بہت خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا کہ آپ بہت خوش نصیب آدمی ہیں آپ کے معتقدین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انھیں گنا بھی نہیں جا سکتا ۔
مرشد نے کہا ان میں سے صرف ڈیڑھ شخص ایسا ہے جو میری عقیدت والا ہے اور مجھ پر جاں نثاری کر سکتا ہے ، اور مجھ کو مانتا ہے اور باقی کے ایسے ہی ہیں ۔
بادشاہ بہت حیران ہوا کہ یہ پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ کیسے کہ رہا ہے ۔
مرشد نے کہا کہ ان کے نفس کا ٹیسٹ کرتے ہیں تب آپ کو پتا چلے گا ۔
تو انھوں نے کہا کہ اس میدان کے اوپر ایک ٹیلہ ہے اور اس ٹیلہ کے اوپر آپ مجھے ایک جھونپڑی بنوادیں فوراً رات کی رات میں بنوا دیں - بادشاہ نے جھونپڑی بنوا دی ۔
اس جھونپڑی میں اس بزرگ نے دو بکرے باندھ دیے - اور کسی کو پتا نہیں کہ اس میں دو بکرے باندھے گئے ہیں ۔
اور پھر وہ جھونپڑی سے باہر نکلا اور اونچی آواز میں کہا ۔
ہے کوئی میرے سارے مریدین میں سے جو مجھ پر جان چھڑکتا ہو ؟
میری بات دل کی گہرائیوں سے مانتا ہو ؟ بری اچھی میں ساتھ دینے والا ہو ۔
اور جو قربانی میں اس سے مانگوں وہ دے - اگر کوئی ایسا ہے تو میر…

شیوہ

قربانی کمزور آدمیوں کا فعل نہیں ہوتا۔ یہ صرف بہادروں کا ہی شیوہ ہو سکتا ہے۔

اشفاق احمد زاویہ 3 روح کی سرگوشی صفحہ 306

رہبانیت سے انسانوں کی بستی تک۔۔۔

ہم سب کی طرف سے آپ کی خدمت میں سلام پہنچے۔ ہمیں دوسروں کے مقابلے میں ہدایات، احکامات، اشارات اور Instructions ذرا مختلف قسم کی دی گئی ہیں۔ دوسرے مذاہب، اُمتوں اور قوموں کے لۓ ذرا مختلف پروگرام ہے اور ہمارے لۓ ان سے کچھ علٰیحدہ حکم ہے۔ مثال کے طور پر ہندوؤں میں چار طریقوں سے زندگی کے مختلف حصوں کو الگ الگ کر کے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلے حصے کو “بال آشرم“ کہتے ہیں۔ یہ وہ عرصہ ہے جب آدمی چھوٹا یا بال (بچہ) ہوتا ہے۔ تب وہ کھیلتا ہے، کھاتا اور پڑھتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔ اس کے بعد اس کا “گرہست آشرم“ آتا ہے۔ گرہست میں وہ شادی کرتا ہے اور تب وہ پچیس برس کا ہو جاتا ہے۔ اس وقت وہ دنیا کے میدان میں پوری توانائی کے ساتھ داخل ہو جاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر آدمی کا “وان پرست آشرم“ شروع ہوتا ہے۔ اس آشرم میں ایک شخص دنیا داری کا کام کرتے ہوۓ بھی اس سے اجتناب برتتا ہے۔ دنیا کا کاروبار، دکان چھوڑ کر وہ گھر آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیاداری سے مکمل طور پر غیر متعلق نہیں ہوتا بلکہ تھوڑا سا تعلق رکھتا ہے۔ اپنے بچے کو دکان یا کاروبار پر بھیج دیتا ہے اور وہ بچہ اس کے نائب کے طور پر کام کرتا ہے اور اس…

ذات کی تیل بدلی

پرسوں میرے ساتھ پھر وہی ہوا جو ایک برس اور تین ماہ پہلے ہوا تھا۔ یعنی میں اپنی گاڑی کا فلنگ اسٹیشن پر تیل بدلی کروانے گیا تو وہاں لڑکوں نے چیخ مار کر کہا کہ سر آپ وقت پر تیل نہیں بدلواتے۔ گاڑی تو اسی طرح چلتی رہتی ہے لیکن اس کا نقصان بہت ہوتا ہے لیکن آپ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ میں نے کہا بھئی اس میں اکیلے میرا ہی قصور نہیں ہے۔ میرے ملک میں تیل کی بدلی کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ ہم پٹرول ڈالتے ہیں، گاڑی چلتی رہتی ہے اور ہم ایسے ہی اس سے کام لیتے رہتے ہیں۔ پھر اچانک خیال آتا ہے تو تیل بدلی کرواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی کا سارا تیل اتنا خراب ہو چکا ہے کہ اسے باہر نکالنا مشکل ہو گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یار چلتی تو رہی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ آپ تو سر پڑھے لکھے آدمی ہیں اور گاڑی کا وقت پر تیل بدلوانا بہت ضروری ہے۔ پچھلے سال بھی انہوں نے مجھ سے یہی بات کہی تھی اور مجھ سے بدستور یہ کوتاہی سرزد ہوتی رہی۔ جب وہ لڑکے تیل تبدیل کر رہے تھے تو میں سوچنے لگا کہ میں باقی سارے کام وقت پر کرتا ہوں۔ بینک بیلنس چیک کرتا ہوں، یوٹیلیٹی بلز وقت پر ادا کرتا ہوں اور یہ ساری چیزیں میری زندگی اور وجود…

ملجا و ماویٰ

ہم نے سوچا کہ یہ ہمارا گھر ہے ۔ بنا بھی صاف ستھرا ہے اور ہم اپنے اللہ تعالیٰ کو اپنے گھر لے آتے ہیں ۔ اور ان کی بڑی مہربانی کہ وہ آگئے ۔ اور وہ یہاں رہتے ہیں اور اور یہاں تشریف فرما ہیں ۔


اب ہماری دن رات یہ کوشش رہتی ہے اور ہم ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کہیں کوئی ایسا فعل تو نہیں سرزد ہو گیا کہ اس سے اللہ ناراض ہو جائے یا کوئی ایسی خوشی کی بات کہ جس سے اللہ خوش ہوا ہو ۔ ہم اس کے درمیان گھومتے رہتے ہیں اور ہماری زندگی کا مرکز ملجا و ماویٰ اللہ کی ذات ہے ۔ اور ہم بندوں سے منسلک ہو گئے کہ اگر اللہ سے محبت کرنی ہے تو پھر بندوں سے محبت ضروری ہے اگر بندوں کی خدمت کرنی ہے تو اللہ کے لیے کرنی ہے ۔ بندوں سے کسی صلے یا انعام کی توقع نہیں رکھنی ۔

لاتعلقی

آج سے کئی برس پہلے کی بات ہے ۔ میں ایک رسالہ دیکھ رہا تھا تو اس میں ایک تصویر نما کارٹون تھا ۔ جس میں ربڑ کی ایک بہت مضبوط کشتی گہرے سمندروں میں چلی جا رہی تھی ۔ اس ربڑ کی مضبوط کشتی کے ایک طرف سوراخ ہو گیا اور سمندر کا پانی کشتی میں داخل ہونے لگا ۔ کشتی میں جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے وہ ڈبے گلاس اور مگ لے کر یا جو کچھ بھی ان کے پاس تھا پانی نکالنے کی کوشش کرنے لگے ۔ اس کشتی کی دوسری سائیڈ پر جس طرف سوراخ نہیں ہوا تھا جو لوگ بیٹھے تھے انتہائی پرسکون نظر آ رہے تھے ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمیں بھی پانی نکالنا چاہیے لیکن اس کے ساتھیوں نے کہا دفع کرو یہ ہماری سائیڈ تھوڑی ہے ، اس سے ہمارا کیا تعلق وہ خود ہی نکال لیں گے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 روشنی کا سفر صفحہ 170

کھیڑے

جب آپ اللہ سے درخواست کرتے ہیں تو وہ خوش ہوتا ہے ۔ آپ کوئی درخواست لے کر اللہ کے " کھیڑے " پڑ جائیں ۔ اس کے پیچھے ہی پڑ جائیں ۔ جس طرح بچے اپنے والدین کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ بچوں کی طرح درخواست  کریں ، بلکیں اور اپنی بات  منوا کر ہی چھوڑیں ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 مرکزِ دعا صفحہ 317

خدا پر یقین

"ایک دن میں اپنے پوتے سے کہ رہا تھا کہ " بلال میاں ، میں اپنے الله کو مان کے مرنا چاہتا ہوں' وہ کہنے لگا کہ " بابا تم تو بہت اچھے آدمی ہو " میں نے کہا نہیں " مجھے میرے ابّا جی نہ کہا تھا کہ ایک الله ہوتا ہے - میں نے یہ بات مان لی اور الله کوئی ماننے لگا - "


میں الله کو خود سے ڈائریکٹ ماننا چاہتا ہوں - بس خدا پر یقین کی ضرورت ہے ، میرے ابّا جی بتایا کرتے تھے کہ ایک دن ان کے ہاں دفتر میں کام کرنے والے ملازم کی تنخواہ چوری ہو گئی تو سب نے کہا کہ یار بڑا افسوس ہے - تو وہ کہنے لگے کہ " خدا کا شکر ہے نوکری تو ہے " ایک ماہ بعد خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی نوکری بھی چلی گئی لوگوں اور ابا جی نے ان سے افسوس کیا تو کہنے لگے جی " خدا نے اپنا گھر دیا ہے ، اندر بیٹھ کر اچار روٹی کھالیں گے - الله کا فضل ہے - پرواہ کی کوئی بات نہیں - " یہ خدا کی طاقت تھی - مقدمے بازی میں کچھ عرصے بعد اس کا گھر بھی فروخت ہو گیا - وہ پھر بھی کہنے لگا کہ " فکر نہیں میرے ساتھ میری بیوی ہے - یہ بیالیس سال کا ساتھ ہے - " بیوی فوت ہوئی تو اس نے کہا کہ " کوئی بات ن…

سیلف

جو اپنا تجزیہ کرتے ہیں ان کو پتہ چلتا رہتا ہے  اپنے اس  " سیلف " کا جو لے کر انسان پیدا ہوا تھا  وہ محفوظ رکھا ہوا ہے یا نہیں ۔ گو ہم نے تو اپنے  " سیلف " کے اوپر بڑے بڑے سائن بورڈ لگا لیے ہیں ، اپنے نام تبدیل کر لئے ہیں ، اپنی ذات کے اوپر ہم نے پینٹ کر لیا ہے ۔ ہم جب کسی سے ملتے ہیں مثلاًمیں آپ سے اشفاق کی طرح نہیں ملتا میں تو ایک رائٹر، ایک دانشور، ایک سیاستدان، ایک مکار، ایک ٹیچر بن کر ملتا ہوں ۔  اس طرح جب آپ مجھ سے ملتے ہیں آپ اپنے سائن بورڈ مجھے دکھاتے ہیں ۔ اصل " سیلف " کہاں ہے وہ نہیں ملتی ۔ اصل " سیلف " جو اللہ نے دے کر پیدا کیا ہے ، وہ تب ہی ملتا ہے ، جب آدمی اپنے نفس کو پہچانتا ہے ۔ لیکن اس وقت جب وہ اکیلا بیٹھ کر غور کرتا ہے ۔  کوئی اس کو بتا نہیں سکتا اپنے نفس سے تعارف اس وقت ممکن ہے جب آپ اس کے تعارف کی پوزیشن میں ہوں اور اکیلے ہوں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا " ۔ 


اشفاق احمد زاویہ 2 صفحہ 45