نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

June, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ماننے والے۔۔۔

اب باباابراہیم ؑ وہ ماننے والے تھے اور ان کی کمال کی شخصیت تھی ۔ وہ جدالانبیاء تھے ۔اگر آپ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو ان پر اتنا پیار آ جائے گا کہ آپ آبدیدہ ہو جائیں گے ۔ ایک وہ تھے اور ایک ان کے فرمانبردار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے ۔ ابا خدا کے گھر کی تعمیر کے لیے گارالگا رہے ہیں اور بیٹا اینٹیں پکڑا رہا ہے ۔ لق و دق صحرا ہے ، نہ بندہ ہے نہ بندے کی ذات ،نہ سایہ ہے نہ گھاس ، وہاں پانی بھی نہیں ہے ۔ اب سخت رونے کا مقام تو وہ ہے نا جی ۔ کہ حکم مل گیا ہے تعمیر کا اور کوئی سہولت بھی نہیں ۔
لیکن آپ ماننے والوں کو دیکھیے کہ وہ کس قدر طاقتور ہیں انہوں نے حکم ملتے ہی کہا " بسم اللہ " ۔
اور جب اللہ کا گھر اتنی مشکل کے بعد بن گیا جس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے ۔ گھر بن چکنے کے بعد اللہ نے فرمایا کہ " اے ابراہیم اب یہاں اذان دے ۔ لوگوں کو حج کے لیے بلا " ۔
اب ابراہیم ؑ حیران ہوئے ہوں گے کہ ہم یہاں دو کھڑے ہیں ۔ یہاں حج کے لیے کون آئے گا ۔
اللہ نے فرمایا کہ " اے ابراہیم تو لوگوں کو بلا ، لوگ چاروں طرف سے چلتے آئیں گے ۔وہ لاغر اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئی…

قصور

جس شخص نے آپ کا کوئی قصور کیا ہو ، اس کو فوراً معاف کر کے آزاد کر دیں ۔جب تک آپ اسے معاف نہیں کریں گے ، وہ قصور میں جکڑا رہے گا اور آزادی سے دور رہے گا ۔یاد رکھیے جکڑے ہوئے شخص پر شیطان فوری حملہ کرتا ہے ۔زندگی کے فیصلے کرنے کے لئے دماغ سے ضرور کام لیں جو خدا نے آپ کو دیا ہے ۔اسی طرح دل کے فیصلوں پر بھی عمل کریں وہ بھی آپ کو خدانےہی دیا ہے  ۔معرفت کی معنیٰ ہیں کہ دنیا کی قدر دل کے اندر نہ ہو دنیا سے دل کو خالی رکھے ، اور بے ضرورت سامان جمع نہ کرے ۔اگر ساری زمین گناہوں سے بھر جائےتو توبہ سب کو مٹا دیتی ہے ۔ڈائنا مائیٹ  ذرا سی ہوتی ہے لیکن بڑے پہاڑوں کو پھاڑ دیتی ہے۔
اشفاق احمد بابا صاحبا سے اقتباس 

آشنائی

جس طرح باپ بچے کو ہوا میں اچھالتا ہے اور پھر پکڑ لیتا ہے ۔ پھر اچھالتا ہے پھر پکڑتا ہے ۔ ہوا میں بچہ ڈرتا ہے، سہمتا ہے اور بازو میں واپس آنے پر یقین و آسائش سے ہمکنار ہوتا ہے ۔ یہی حال خدا سے آشنائی کا اور نا آشنائی کا ہے ۔ بازوؤں میں آنے کا اور بازوؤں سے نکل جانے کا ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 430

احساس ندامت

کچھ لوگ ندامت کا احساس بڑے فخر سے کرتے ہیں ۔ یہ بھی ان کی انا کا ایک مظہر ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں توبہ توبہ ۔ ۔ ۔ جوانی میں بڑے گناہ کیے ۔ اب بھی میں اپنے کرتوتوں سے باز نہیں آتا ۔ بظاہر تو وہ افسوس کرتے نظر آئیں گے مگر اندر سے وہ فخر کر رہے ہوں گے ۔
جب انا کو سارے نپل چھڑوائے جاتے ہیں تو سب سے آخری نپل جو اس کے منہ میں رہ جاتا ہے وہ احساسِ ندامت کا ہوتا ہے ۔ اس ندامت کے احساس سے وہ لوگوں پر برتری کا رعب جماتا ہے ۔ جب اپنی منفی حرکتوں کا احساس ہونے لگے تو ان کو ترک کرنا باطن کے سفر کا پہلا قدم ہے ۔ ان کے اظہار کا نہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 528