نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

September, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تنقید اور تائی کا فلسفہ

(نوٹ- یہ پروگرام اشفاق احمد کے انتقال سے چند روز قبل نشر ہوا)
ان دنوں میرا پوتا، جو اب بڑا ہو گیا ہے،عجیب عجیب طرح کے سوال کرنے لگاہے- ظاہر ہے کہ بچّوں کو بڑا حق پہنچتا ہے سوال کرنے کا- اُس کی ماں نے کہا کہ تمہاری اردو بہت کمزور ہے، تم اپنے دادا سے اردو پڑھا کرو- وہ انگریزی سکول کے بچّے ہیں، اس لیے زیادہ اردو نہیں جانتے- خیر! وہ مجھ سے پڑھنے لگا- اردو سیکھنے کے دوران وہ مجھ سے کچھ اور طرح کے سوالات بھی کرتا ہے- پرسوں مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ دادا! یہ آمد و رفت جو ہے،اس میں عام طور پر کتنا فاصلہ ہوتا ہے؟ (اُس نے یہ لفظ نیا نیا پڑھا تھا) اب اُس نے ایسی کمال کی بات کی تھی کہ میں اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا- پھر اُس نےمجھ سے کہا کہ دادا! کیا نفسیات کی کوئی ایسی کتاب ہے، جس میں آدمی کو پرکھنے کے اچھے سے اور آسان سے طریقے ہوں؟ تو میں نے کہا کہ بھئی! تہمیں آدمی کو پرکھنے کی کیا ضرورت پیش آرہی ہے؟ اُس نے کہا کہ پتہ تو چلے کہ آخر مدِّ مُقابل کیسا ہے؟ کس طرز کا ہے؟ جس سے میں دوستی کرنے جا رہا ہوں، یا جس سے میری مُلاقات ہو رہی ہے- میں اُس کو کس کسوٹی پر لٹمس پیپر کے ساتھہ چیک کروں- میں نے کہ…

مومن کی شان

پھر اہمیت کس کو ہوئی۔۔۔ جسم کو، روح کو یا دماغ کو؟
ارشاد: کمال ہے بیگم صاحبہ! آپ سٹول کی تینوں ٹانگوں کے بارے میں پوچھ رہی ہیں، ان میں سے اہم ترین کون سی ہے کہ سٹول گرنے نہ پائے اور اپنا توازن قائم رکھے۔
عائشہ: تینوں ہی اہم ہیں مسز سلمان اور ایک جیسی اہم ہیں۔
عذرا: مجھے تو سمجھ نہیں آتی بالکل۔ میں تو قدم قدم پر غلطیاں کرتی ہوں اور قدم قدم پر گرتی ہوں۔
ارشاد: انسان غلطی بھی کرتا ہے، گرتا بھی ہے اور ناکام بھی ہوتا ہے۔ انسان جو ہوا۔ اس کائنات میں صرف ایک ذات ایسی ہے جو نہ غلطی کرتی ہے اور نہ ہی ناکام ہوتی ہے۔
عذرا: خدا کی ذات!
ارشاد: اب جو لوگ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پر کڑھتے ہیں، ان میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں، وہ نعوذباللہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔۔۔ اور جب ان سے خدا بنا نہیں جاتا کہ یہ ناممکن بات ہے تو پھر وہ شیطان بن جاتے ہیں اور بڑے نقصان کرتے ہیں۔
عائشہ: سارے معاشرے کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
ارشاد: سارے معاشرے کو؛ اپنے آپ کو؛ پورے ماحول کو۔۔۔ (موڈ بدل کر) پاکپتن میں میں نے بابا صاحب کے مزار پر ایک فقیر کو دیکھا کہ ہاتھ میں روٹی رکھے کھا رہا تھا اور اس کے کچلوندے کبوتروں کو ڈال ر…

Live and Let to Live

پاکستان کا ہر شخص آجکل اس وقت بڑی شدت کے ساتھ اس محاورے پر عمل کر رہا ہے۔ میں اپنے بہت امیر دوستوں سے ملتا ہوں تو وہ کہتے ہیں اشفاق صاحب ہم تو Live and Let to Live پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم جس طرح سے زندگی بسر کر رہے ہیں اس پر خوش ہیں اور ہم لوگوں کی زندگیوں میں دخل نہیں دیتے۔ ہمارے اردگرد جھگی والے رہتے ہیں، دوسرے لوگ رہتے ہیں ہم نے کبھی جا کر ان سے نہیں پوچھا کہ تم کیسے ہو۔ ہمار اصول Live and Let to Live هے. ہمارے اب یہ اصول ہی چل رہا ہے کہ کوئی زندہ رہے، مرے کھپے، جئیے، ہم اس میں دخل نہیں کریں گے۔ پچھلے سے پچھلے سال مجھے امریکہ جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ریاست کیلیفورنیا میں ایک صاحب نے ہماری دعوت کی۔ میرے ساتھ بانو قدسیہ بھی تھیں۔ وہ دعوت بڑی ہی پر تکلف تھی۔ وہ ہمارے دوست ائیر فورس کے بھاگے ہوئے افسر تھے۔ وہ ماشاءاللہ پاکستان سے بڑی دولت لوٹ کر ساتھ لے گئے تھے۔ وہ آجکل امریکہ میں انگور سکھا کر دنیا بھر میں سپلائی کرنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا، آپ تو یہاں ہمارا سارا پیسہ لے کر آئے ہیں۔ وہ کہنے لگے اشفاق صاحب ہم تو Live and Let to Live پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہ…

دروازہ کھلا رکھنا

آج سے چند ہفتے پہلے یا چند ماہ پہلے میں نے ذکر کیا تھا کہ جب بھی آپ دروازہ کھول کے اندر کمرے میں داخل ہوں تو اسے ضرور بند کر دیا کریں اور میں نے یہ بات بیشتر مرتبہ ولایت میں قیام کے دوران سُنی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ Shut Behind The Door میں سوچتا تھا کہ وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ اندر داخل ہوں تو دروازہ پیچھے سے بند کر دو، شاید وہاں برف باری کے باعث ٹھنڈی ہوا بہت ہوتی ہے اس وجہ سے وہ یہ جملہ کہتے ہیں۔ لیکن میرے پوچھنے پر میری لینڈ لیڈی نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ”آپ اندر داخل ہوگئے ہیں اور اب ماضی سے آپ کا کوئی تعلق نہیں رہا، آپ صاحبِ حال ہیں،اسلئےماضی کو بند کر دو اور مستقبل کا دروازہ آگے جانے کے کیے کھول دو۔“ ہمارے بابے کہتے ہیں صاحبِ ایمان اور صاحبِ حال وہ ہوتا ہے،جو ماضی کی یاد میں مبتلا نہ ہو اور مستقبل سے خوفزدہ نہ ہو۔ اب میں اس کے ذرا سا اُلٹ آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا کیوں کہ پیچھے کی یادیں اور ماضی کی باتیں لوٹ لوٹ کے میرے پاس آتی رہتی ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس میں سے کچھ حصّہ بٹائیں۔


ابنِ انشاء نے کہا تھا کہ”دروازہ کُھلا رکھنا۔“ آپ دوسروں کےلئےضرور دروازہ کھول کے…

پائیداری کا قضیہ

انسان کو دنیا میں ایک سب سے بڑی پریشانی ھے۔۔۔ وہ پائیدار ھونا چاھتا ھے اور موت کے ھوتے ھوئے وہ کبھی مستقل نھیں ہو سکتا انسان کی ہر پریشانی کا تجزیہ کرو، اصل میں پریشانی موت سے پیدا ھوتی ھے۔۔۔ آرزو کی موت، راحت و خوشی کی مرگ۔ دیکھو تو آدمی ھر وقت مرتا رھتا ھے، بدن کی موت تو آخری فل سٹاپ ھے، موت کی جھلکیاں، چھوٹی موٹی ملاقات تو روز ھوتی ھے موت سے۔۔۔۔
راجا گدھ ۔۔۔بانو قدسیہ

مراقبہ

مراقبہ کیوں کیا جاتا ہے، اس کی کیا ضرورت ہے، کس لئے وہ بیٹھ کر مراقبہ کرتے ہیں اور اس سے ان کی آخر حاصل کیا ہوتا ہے؟ مراقبے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ کوئی ایسی مشین یا آلہ ایجاد نہیں ہوا، جو کسی بندے کو لگا کر یہ بتایا جا سکے کہ میں کیا ہوں؟ یا یہ کہ میں کون ہوں؟ اس کے لئے انسان کو خود ہی مشین بننا پڑتا ہے، خود ہی سبجیکٹ بننا پڑتا ہے اور خود ہی جانچنے والا۔ اس میں آپ ہی ڈاکٹر ہے، آپ ہی مریض ہے۔ یعنی میں‌ اپنا سراغ رساں خود ہوں اور اس سراغ رسانی کے طریقے مجھے خود ہی سوچنے پڑتے ہیں کہ مجھے اپنے بارے میں کیسے پتا کرنا ہے۔ بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں، بڑے ہی پیارے، لیکن ان سے کچھ ایسی باتیں سرزد ہوتی رہی ہیں کہ وہ حیران ہوتے ہیں کہ میں عبادت گزار بھی ہوں، میں بھلا، اچھا آدمی بھی ہوں، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں ہوں کون؟ اور پتا اسے یوں نہیں چل پاتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوند تعالٰی نے انسان کے اندر اپنی پھونک ماری ہوئی ہے اور وہ چلی آ رہی ہے۔ اس کو آپ حذف نہیں کر سکتے۔ اس کو آپ پردہ کھول کر دیکھ نہیں سکتے، آپ ایک لفظ یاد رکھیئے گا "سیلف" یعنی “ذات“ کا۔ اقبال جسے خودی کہتا ہ…

فیصلہ کن لمحے

کچھ لمحے بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کون کس شخص کا سیارہ بنایا جائے گا۔ جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر ٹھوس مائع اور مائع گیس میں بدل جاتا ہے‘ اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، اس وقت ایک قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کر دی جاتی ہیں۔ پھر جو وقت پہلے قلب میں رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے‘ جو موسم‘ جو رُت‘ جو پہلے دن میں طلوع ہوتا ہے وہی دوسرے آئینے منعکس ہو جاتا ہے۔ دوسرے قلب کی اپنی زندگی ساکت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں صرف بازگشت کی آواز آتی ہے۔
بانو قدسیہ کے ناول "راجہ گدھ" سے اقتباس


خدا سے محبت

ہمیں خدا سے ایسی محبّت ھونی چاہیے جیسے بہن اور بھائی کی محبّت ہوتی ہے یا ماں اور بچے کی محبّت ہوتی ہے. ایسی محبّت نہیں ھونی چاہیے جو عاشق و معشوق یا میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے. پہلی قسم کی لوگ اپنی محبّت کا اظہار برملا کرسکتے ہیں ، جلوت میں، خلوت میں، گھر میں، سراہے میں ، محفل میں, تنہائی میں لیکن دوسری قسم کی محبّت کرنے والے صرف خلوت میں اور تنہائی میں اپنی محبّت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں ہمیں ان لوگوں کی پیروی نہیں کرنی چاہے جو کہتے ہیں ہم خدا سے محبّت کا اظہار صرف مسجد یا مراقبے میں یا درگاہ کی اندر کرسکتے ہیں, ہمیں تو اپنی محبّت کا اظہار ہر جگہ کرنا ہے اور ہر مقام پہ کرنا ہے... ہر شخص سے کرنا ہے اور ہر موسم میں کرنا ہے اس میں چھپنا یا چھپانا نہیں ہے۔ بابا صاحبا سے اقتباس


اللہ کا پسندید فعل

محمد حسین: لیکن سرکار، یہ رنگا رنگ مورتیاں۔۔۔ یہ شکلیں شباہتیں۔۔۔ یہ دھینگا مشتی۔۔۔ مار دھاڑ۔۔۔ کھینچا تانی، یہ کیا؟
ارشاد: میاں محمد حسین صاحب راج دلارے! نہ کوئی ساجد ہے نہ مسجود۔۔۔ نہ عابد نہ معبود۔۔۔ نہ آدم نہ ابلیس۔۔۔ صرف ایک ذات قدیم صفات رنگارنگ میں جلوہ گر ہے۔ نہ اس کی ابتداء نہ انتہاء۔۔۔ نہ کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا۔۔۔ نہ فہم قیاس میں آئے نہ وہم گماں میں سمائے۔۔۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے اور جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔۔۔ نہ گھٹے نہ بڑھے، نہ اترے نہ چڑھے۔۔۔ وہ ایک ہے، لیکن ایک بھی نہیں کہ اس کو موجودات سے اور موجودات کو اس سے الگ سمجھنا نادانی اور مورکھتا ہے۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگا پروفیشن موجود ہیں۔ ایسے ہی خداشناسی اور خدا جوئی بھی ایک دھندہ ہے۔
محمد حسین: جب اس کا کوئی سر پیر ہی نہیں حضور تو پھر ڈھونڈنے والا کیا ڈھونڈے اور کرنے والا کیا کرے؟
ارشاد: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا، یا مولا! تیری بارگاہ میں میرا کون سا فعل پسندیدہ ہے تا کہ میں اسے ذیادہ کروں اور بار بار کروں۔ حکم ہوا یہ فعل ہم کو پسند آیا کہ جب بچپن میں تیری ماں تجھے مارا کرتی تھی تو مار کھا کر بھی اسی…

ماضی کا البم

انسانی زندگی میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ آدمی کو کسی چیز سے ایسی چڑ ہو جاتی ہےکہ اس کا کوئی خاص جواز نہیں ہوتا مگر یہ ہوتی ہے- اور میں اُن خاص لوگوں میں سے تھا جس کو اس بات سے چڑ تھی کہ "دروازہ بند کر دو-“ بہت دیر کی بات ہے کئی سال پہلے کی، جب ہم سکول میں پڑھتے تھے، تو ایک انگریز ہیڈ ماسٹر سکول میں آیا- وہ ٹیچرز اور طلباء کی خاص تربیت کے لئے متعین کیا گیا تھا - جب بھی اُس کے کمرے میں جاؤ وہ ایک بات ہمیشہ کہتا تھا-  "Shut The Door Behind You!" پھر پلٹنا پڑتا تھا اور دروازہ بند کرنا پڑتا تھا- ہم دیسی آدمی تو ایسے ہیں کہ اگر دروازہ کُھلا چھوڑ دیا تو بس کُھلا چھوڑ دیا، بند کر دیا تو بند کر دیا، قمیص اُتار کے چارپائی پر پھینک دی، غسل خانہ بھی ایسے ہی کپڑوں سے بھرا پڑا ہے، کوئی قاعدہ طریقہ یا رواج ہمارے ہاں نہیں ہوتا کہ ہر کام میں اہتمام کرتے پھریں- یہ کہنا کہ دروازہ بند کر دیں، ہمیں کچھ اچھا نہیں لگتا تھا اور ہم نے اپنے طورپر کافی ٹریننگ کی اور اُنہوں نے بھی اس بارے میں کافی سکھایا لیکن دماغ میں یہ بات نہیں آئی کہ بھئی دروازہ کیوں بند کیا جائے؟ رہنے دو ،کُھلا ک…

ان پڑھ سقراط

میں کب سے آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں اور آپ کے ارشاد کے مطابق وہی گن گاتا رہا ہوں جن کی آپ کو ضرورت تھی۔ آج میں آپ سے ایک اجازت مانگنے کی جرات کر رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھے اس بات کی اجازت دیجیے کہ میں دبی زبان کی بجائے اونچی آواز میں یہ کہہ سکوں کہ جو انسان ان پڑھ ہوتا ہے اس کے پاس بھی اچھا اور ہائپوتھیلمس دماغ ہوتا ہے۔ وہ بھی سوچ سکتا ہے، وہ بھی سوچتا ہے۔ وہ بھی فاضل ہوتا ہے اور ہنر مند ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اور خاص طور پر ہمارے علاقے میں یہ بات بہت عام ہو گئی ہے کہ صرف پڑھا لکھا آدمی ہی لائق ہوتا ہے اور جو “ پینڈو “ آدمی ہے اور انگوٹھا چھاپ ہے اس کو اللہ نے دانش ہی نہیں دی ہے۔ اس سوچ نے ہماری زندگیوں میں ایک بہت بڑا رخنہ پیدا کر دیا ہے اور ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گۓ ہیں۔ ہمیں سیاسی، سماجی اور نفسیاتی طور پر بڑی شدت کا نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ دوسرے ملکوں والے اپنی اجتماعی زندگی میں اس نقصان کے متاثرہ نہیں ہیں۔ ہماری چودہ کروڑ کی اتنی بڑی کمیونٹی ہے۔ اس کو ہم نے ایک طرف رکھا ہوا ہے اور میں آپ اور ہم سب جو سمجھدار لوگ ہیں جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ دو لاکھ بنتی ہے ہم نے سارا حساب و …

عشق حقیقی، عشق مجازی

"اپنی انا اور نفس کو ایک انسان کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق حقیقی ہے، اصل میں دونوں ایک ہیں۔ عشق حقیقی ایک درخت ہے اور عشق مجازی اسکی شاخ ہے۔ جب انسان کا عشق لاحاصل رہتا ہے تو وہ دریا کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے، چھوٹے راستے سے ہٹ کر بڑے مدار کا مسافر بن جاتا ہے۔۔۔ تب، اس کی طلب، اس کی ترجیحات بدل جاتیں ہیں۔"
زاویہ سوئم، باب :محبت کی حقیقت سے اقتباس


محبت کا طوق

آزادی اکیلے آدمی کا سفر ہے، رسی تڑوا کر سرپٹ بھاگنے کا عمل ہے۔ محبت اپنی مرضی سے کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھے رہنے کی صلاحیت ہے۔ محبت اس غلامی کا طوق ہے جو انسان خود اپنے اختیار سے گلے میں ڈالتا ہے۔ یہ عہد پیری مریدی کا نہیں کہ مرشد منوائے اور سالک ماننے کے مقام پر ہو۔ یہ زمانہ شادی کا بھی نہیں کہ شادی میں بھی قدم قدم پر اپنی مرضی کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ حضرت ابراھیم جس طرح اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر راضی بر رضا رہے، یہ محبت کی عظیم مثال ہے۔ محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا "شرک" ہے، کیوں کہ بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی، محبوب سے بھی اور اپنے آپ سے بھی۔ محبت غلامی کا عمل ہے اور آزاد لوگ غلام نہیں رہ سکتے۔
بانو قدسیہ کے ناول حاصل گھاٹ سے اقتباس


ماننے والا شخص

خواتین و حضرات اپنے دکھ اور کوتاہیاں دور کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم تسلیم کرنے والوں میں، ماننے والوں میں شامل ہو جائیں اور جس طرح خداوند تعالٰی کہتا ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ابو دین میں پورے کے پورے کس طرح داخل ہو جائیں تو میں اس کو کہتا ہوں کہ جس طرح سے ہم بورڈنگ کارڈ لے کر ایئر پورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر جہاز میں بیٹھ کر ہم بے فکر ہو جاتے ہیں کہ یہ درست سمت میں ہی جائے گا اور ہمیں اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ جہاز کس طرف کو اڑ رہا ہے۔ کون اڑا رہا ہے بلکہ آپ آرام سے سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ کو کوئی فکر فاقہ نہیں ہوتا ہے۔ آپ کو اپنے دین کا بورڈنگ کارڈ اپنے یقین کا بورڈنگ کارڈ ہمارے پاس ہونا چاہیے تو پھر ہی خوشیوں میں اور آسانیوں میں رہیں گے وگرنہ ہم دکھوں اور کشمکش کے اندر رہیں گے اور تسلیم نہ کرنے والا شخص نہ تو روحانیت میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی سائنس میں داخل ہو سکتا ہے۔ جو چاند کی سطح پر اترے تھے جب انہوں نے زمین کے حکم کے مطابق ورما چلایا تھا تو اس نے کہا کہ ورما ایک حد سے نیچے نہیں جا رہا۔ جگہ پتھریلی ہے لیکن نیچے…

تعلیم و تربیت کا فقدان

جب تک ہم میں تعلیم کا فقدان رہے گا اور جب تک تعلیم یافتہ لوگوں کی تربیت درست انداز، خطوط اور سطح پر نہیں ہو گی اس وقت تک ہم ایسی الجھنوں کا شکار ہوتے رہیں گے اور اس میں مبتلا ہوتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جو صاحبانِ اختیار و اقتدار ہیں اور جن کے ہاتھ اور قبضے میں لوگوں کی زندگیوں کی قدرت ہے ان کو دوبارہ اپنے آپ کو بھی درست کرنا چاہئے اور اس تعلیم کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ اس حوالے سے تربیت کی واقعی ضرورت ہے۔ تربیت حاصل کرنے کے لئے کوئی اور راستہ اختیار کیا جانا چاہئے۔ میں تو اکثر ایک ہی بات کہا کرتا ہوں کہ جب تک آپ اپنے 14کروڑ بھائیوں کو ان کو عزتِ نفس نہیں لوٹائیں گے آپ پوری طرح سے بٹے رہیں گے اور کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ان کو ان کی عزت لوٹا دیجیئے اوران کو سلام کیجیئے۔ آپ کے گھر دانوں سے بھر جائیں گے اور آپ کی "چاٹیاں" مکھن سے لبریز ہو جائیں گی۔
زاویہ دوئم سے اقتباس




بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…