نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

November, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پریم جل

مرد عورت سے ہمہ وقت محبت نہیں کر سکتا ۔ وقفے وقفے کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی فرصت کے مطابق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی دہاڑی کے تحت وہ عورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ لیکن عورت سارا وقت توجہ چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر وقت محبت چاہتی ہے ۔ یہ بیل پریم جل کے بغیر سوکھنے لگتی ہے اور سنولا کر رہ جاتی ہے ۔


اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 166

یقین

ہمیں اس بات کا تو یقین ہے کہ دو گولی ڈسپرین سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا ۔ فلاں ہارٹ سرجن اگر آپریشن کرے گا تو مریض مر نہیں سکتا چاہے وہ کچھ دیر کے لیے مریض کے سینے سے دل ہی باہر نکال کر کیوں نہ رکھ دے ۔ لیکن ہمیں اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ فلاں آیتِ مبارکہ پڑھنے سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا یا رزق میں برکت آئے گی ۔ اس بات پر یقین نہیں کہ صدقہ دینے سے اس کا دس فیصد اضافہ دنیا میں اور ستر فیصد اضافہ آخرت میں ملے گا ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 دو گولی ڈسپرین 266
ہمیں اس بات کا تو یقین ہے کہ دو گولی ڈسپرین سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا ۔ فلاں ہارٹ سرجن اگر آپریشن کرے گا تو مریض مر نہیں سکتا چاہے وہ کچھ دیر کے لیے مریض کے سینے سے دل ہی باہر نکال کر کیوں نہ رکھ دے ۔ لیکن ہمیں اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ فلاں آیتِ مبارکہ پڑھنے سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا یا رزق میں برکت آئے گی ۔ اس بات پر یقین نہیں کہ صدقہ دینے سے اس کا دس فیصد اضافہ دنیا میں اور ستر فیصد اضافہ آخرت میں ملے گا ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 دو گولی ڈسپرین 266

عزت نفس

انسان میں اپنی کمزوریاں اور اپنے اندر جو خامیاں ہوتی ہیں ، ان کو تسلیم نہیں کرتا ۔ دوسروں میں جو خوبی ہے وہ مجھ میں کیوں نہیں ، اسے یا تو حسد کہ سکتے ہیں یا انسان کی شخصی کمزوری کہ سکتے ہیں ۔
کچھ قدرتی کمزوریاں ہوتی ہیں ۔ کچھ لوگ قدرتی طور پر خوبصورت پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ مارجن لے کر آتے ہیں ۔اور جس کے پاس مارجن نہیں ، وہ کیا کرے ؟ صورت کو ایک معیار بنا دیا گیا ہے ۔
آدمی جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے اتنا بڑا اس کا ظرف ہو جاتا ہے ۔ وہ چیزں کو برداشت بھی کر لیتا ہے ۔ سن بھی لیتا ہے۔ کنڈم بھی نہیں کرتا ۔ اگر ایسی صورتِ حال پیدا کی جائے کہ ہر آدمی کو عزتِ نفس ملے اس کو بڑا ہونے کا احساس دیا جائے تو پھر وہ اپنے خامیوں پہ قابو پا لے گا اور دوسروں کو کنڈم نہیں کرے گا ۔


اشفاق احمد زاویہ بہروپ صفحہ 13

دوزخ کا خوف

ایک بار جمعہ کی نماز سے قبل میں ایک بابا جی کے پاس بیٹھا تھا اور اسپیکر پر ایک مولانا تقریر فرما رہے تھے۔ وہ بابا جی کافی دیر خاموشی سے مولانا کی تقریر کو توجہ سے سنتے رہے اور پھر اچانک مجھ سے مخاطب ہوئے۔ انہوں نے مجھ سے سوال کیا، 'یہ مولانا جو لوگوں کو خدا سے ڈرا رہے ہیں (وہ مولانا دوزخ کی سزاوَں کے بارے میں بتا رہے تھے) اور بڑے بڑے سانپوں اور دہکتی آگ کا ذکر کر رہے ہیں۔۔۔ کیا یہ مسجد میں آئے ہوئے ان لوگوں کو یہاں سے بھگانا چاہتے ہیں؟"
میں نے کہا، بابا جی اس میں بھگانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ لوگوں کو شاید اس لیے خوف دلا رہے ہیں تا کہ وہ برے کاموں سے اجتناب کریں۔
بابا جی کہنے لگے، 'کیا مسجد میں لوگ خدا کے ڈر سے نہیں آتے؟ اور کیا وہ برے کاموں سے اجتناب خدا کی محبت میں نہیں کر سکتے؟' اب میں انہیں کیا جواب دیتا۔
وہ کہنے لگے، 'کاکا، ایک خدا جو انسان سے ستر ماوَں سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔۔۔ جس مٹی کے پتلے کو اس نے بہترین ساخت پر بنایا ہے۔۔۔ کیا وہ ستر ماوَں کا پیار ایک طرف رکھ کر انہیں دہکتی ہوئی آگ میں پھینکے گا؟'


اشفاق احمد زاویہ 3 کارڈیک اریسٹ

تہیہ کیجیے، راستہ پائیے

جب ایک آدمی کا تہیہ ہو جائے کہ میں نے اس راستے سے اس راستے پہ جانا ہے تو اللہ پھر اس کو برکت دیتا ہے اور پھر وہ آدمی جس کی تلاش میں ہوتا ہے وہ ایک دن خود صبح پانچ بجے آ کے اس کے دروازے پہ دستک دیتا ہے، ڈھونڈنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ تہیہ ہو تو پھر ہوتا ہے نہ ہو تو مشکل ہے، پھر آدمی ڈھونڈتا رہتا ہے، بتائیے اشفاق صاحب کوئی اچھا سا بابا!!!۔ یہ ایسے ہے کہ، کیوں کہ ابھی اس کا کوئی ارادہ نہیں اس کا صرف پروگرام یہی پوچھنا ہے کہ نارووال گاڑی کب جاتی ہے؟ کہیں جانا ہے؟ تو کہے گا، نہیں میں تو صرف ایسے ہی پوچھ رہا تھا!!!۔


باب، اندر کی تبدیلی سے اقتباس

اصل دھوکہ

بابے کہتے ہیں کہ جو شخص کسی کو دھوکہ دیتا ہے حقیقت میں خود کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے ۔ لیکن وہ خیال کرتا ہے کہ کسی اور کو دھوکہ دے رہا ہے ۔ اور جو کسی کی خیر اور بھلائی مانگ رہا ہوتا ہے وہ حقیقت میں اپنی بھلائی چاہ رہا ہوتا ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 سب دا بھلا سب دی خیر

بلونگڑے

آپ نوجوان ہیں آپ نے گاؤں میں بڈھوں بابوں کو دیکھا ہوگا وہ صبح سویرے کھیس کی بکل (موٹی چادر اوڑھ کر) باہر دیوار کے ساتھ لگے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اور جب ان کا کوئی پوتا پوتی پاس سے گذرتے ہیں تو جھپٹ کر پکڑ لیتے ہیں ، اور گود میں بٹھا لیتے ہیں ، اوaر کہتے ہیں کہ تیری ماں کو تو کچھ عقل ہی نہیں ہے ۔ شکل دیکھی ہی اپنی ، منہ بھی نہیں دھویا ۔ اور وہ اپنے اس کھیس کو تھوک لگا لگا کر پوتے یا پوتی کا چہرہ صاف کرتے رہتے ہیں جس طرح بلی اپنی بلونگڑے کو چاٹ کر خوبصورت بنا دیتی ہے ۔ وہ دادا بھی اپنے پوتے یا پوتی کو خوبصورت بنا دیتا ہے ۔ ایسے ہی جب آپ خدا کی حضوری میں یا اس کی جھولی میں چلے جاتے ہیں اور پکار کر کہتے ہیں " مجھے آپ ہی عطا کرو ، میں تو اس قابل نہیں ہوں ۔ میں اپنی خود صفائی نہیں کر سکتا " ۔ تو پھر یقیناًخدا کی خاص توجہ ملتی ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 ڈبو اور کالو صفحہ 139

دل اور دماغ

اس وقت ہم عذاب میں ہیں، ساری دنیا عذاب میں ہے ۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے ؟ کارن کیا ہے ؟ مگر اس وجہ کو ڈھونڈھنے کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ دماغ بالکل ٹھیک ہے اور اپنی جگہ چوکس ہے ۔ فقط دل گھاٹے میں آگیا ہے اور اپنے مقام سے ہل گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آگہی اور جانکاری کسی علم سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ تجربے سے ملتی ہے ۔ وہ آنکھیں جو زندگی کی راہوں کو روشن کرتی ہیں وہ دماغ کی آنکھیں نہیں ہوتیں بلکہ دل کی آنکھیں ہوتی ہیں ۔ اگر دل اندھا ہے تو زندگی کی راہ تاریک ہی رہے گی اور ساری عمر تاریکی میں گذر جائے گی۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 607

انٹرٹینمنٹ

ایک صوفی تھکا ہارا جنگل میں جا رہا تھا ۔ اور چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں جنگل کے جانوروں کا اجتماع تھا اور محفل مباحثہ گرم تھی ۔ اس صوفی کو چونکہ جانوروں کی بولیوں کا علم تھا اس لیے وہ رک کر سننے لگا ۔ مباحثے کی صدارت ایک بوڑھے شیر کی سپرد تھی ۔ سب سے پہلے لومڑی اسٹیج پر آئی اور کہا بردارنِ دشت سنئیے اور یاد رکھئیے کہ "چاند سورج سے بڑا ہے اور اس زیادہ روشن ہے"۔ ہاتھی نے اپنی باری پر کہا " گرمیاں سردیوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں " ۔ جب باگھ اسٹیج پر آیا تو سارے جانور اس کی خوبصورتی سے مسحور ہو گئے ۔ اس نے اپنے پیلے بدن پر سیاہ دھاریوں کو لہرا کر کہا "سنو بھائیو ! دریا ہمیشہ سے اوپر کو چڑہتے ہیں " ۔ صوفی نے شیر ببر سے کہا صاحبِ صدر ! یہ سب غضب کے مقرر ہیں اور ان کی وضاحت نے اس محفل کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن میں حیران ہوں کہ سارے مقررین نے سارے ہی بیان غلط دیئے ہیں اور ہر بات الٹ کہی ہے۔ سامعین کو یا تو پتہ نہیں یا انہوں نے توجہ نہیں دی یا پھر وہ لا تعلقی سے سنتے رہے ہیں ۔ ایسی احمقانہ اور غلط باتیں کرنے کی کس نے اجازت دی۔ شیر نے کہ…

ٹیچر ان کورٹ

اگر آپ کو روم جانے کا اتفاق ہوا ہو تو " پالاس آف دی جستی " (پیلس آف دی جسٹس) وہ رومن زمانے کا بہت بڑا وسیع و عریض ہے اسے تلاش کرتے کرتے ہم اپنے جج صاحب کے کمرے میں پہنچے تو وہ وہاں تشریف فرما تھے ۔ مجھے ترتیب کے ساتھ بلایا گیا تو میں چلا گیا ۔ اب بالکل میرے بدن میں روح نہیں ہے ، اور میں خوفزدہ ہوں ، اور کانپنے کی بھی مجھ میں جرئت نہیں ۔ اس لیے کہ تشنج جیسے کیفیت ہو گئی تھی ۔ انہوں نے حکم دیا ، آپ کھڑے ہوں اس کٹہرے کے اندر ۔ اب عدالت نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا چالان ہوا تھا ، اور آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ یہ بارہ آنے ڈاک خانے میں جمع کروائیں ، کیوں نہیں کروائے ؟ میں نے کہا جی ، مجھ سے کوتاہی ہوئی ، مجھے کروانے چاہیے تھے ، لیکن میں ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا ، کتنا وقت عملے کا ضائع ہوا ۔ کتنا پولیس کا ہوا ، اب کتنا " جستیک کا " ( جسٹس عدالت کا ہو رہا ہے ) اور آپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا ۔ ہم اس کے بارے میں آپ کو کڑی سزا دیں گے ۔ میں نے کہا ِ میں یہاں پر ایک فارینر ہوں ۔ پردیسی ہوں ۔ جیسا ہمارا بہانہ ہوتا ہے ، میں کچھ زیادہ آداب نہیں سمجھتا ۔ قانون سے میں واق…

فوکس

سورج جب چمکنے لگتا ہے تو بڑی روشنی ہوتی ہے۔۔۔۔ دن چڑھ آتا ہے، دھوپ پھیلتی ہے، حدت ہوتی ہے، تپش ہوتی ہے، لیکن یہ پھیلی ہوئی گرمی جلاتی نہیں آگ نہیں لگاتی۔ اور جب یہ روشنی یہ دھوپ ایک قطے پہ مرکوز ہوتی ہے تو آگ لگتی ہے، کاغذ جل اٹھتا ہے۔۔۔۔۔۔ اصل میں سارا راز ایک نقطے پر مرکوز ہونے میں ہے۔ خواہش ہو، ارادہ ہو، دعا ہو یہ ساری کی ساری ہماری وِل کی صورتیں ہیں۔۔۔ نیم رضا۔۔۔۔ نیم گرم۔۔۔۔ نیم جاں۔۔۔۔ ارادے کی صورت۔ لیکن جب تک ہمارے ارادے کی تپش کسی مرکز پر فوکس نہیں ہوتی وہ جلا نہیں سکے گی، بھڑک نہیں سکے گی، بھڑکا نہیں سکے گی۔


من چلے کا سودا صفحہ 189

بندے کا دارو بندہ

مجھے وہ بات یاد آ رہی ہے جو شاید میں نے ٹی وی پر ہی سنی ہے کہ ایک اخبار کے مالک نے اپنے اخبار کی اُس کاپی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جس میں دنیا کا نقشہ تھا ۔ اور اس نقشے کو 32 ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ۔ اور اپنے پانچ سال کے کمسن بیٹے کو آواز دے کر بلایا اور اس سے کہا کہ لو بھئی یہ دنیا کا نقشہ ہے جو ٹکڑوں میں ہے اس جوڑ کر دکھاؤ ۔ اب وہ بیچارہ تمام ٹکڑے لے کر پریشان ہو کے بیٹھ گیا ۔ کیونکہ اب سارے ملکوں کے بارے میں کہ کون کہاں پر ہے میرے جیسا بڑی عمر کا آدمی بھی نہیں جانتا ہے ۔ وہ کافی دیر تک پریشان بیٹھا رہا ۔ لیکن کچھ دیر بعد اس نے تمام کا تمام نقشہ درست انداز میں جوڑ کر اپنے باپ کو دے دیا ۔ اس کا باپ بڑا حیران ہوا اور کہا کہ بیٹا مجھے اس کا راز بتا کیونکہ اگر مجھے اس نقشے کو جوڑنا پڑتا تو میں نہیں جوڑ سکتا تھا ۔
اس پر اس لڑکے نے کہا کہ بابا جان میں نے دنیا کا نقشہ نہیں جوڑا بلکہ نقشے کی دوسری طرف سیفٹی بلیڈ کا ایک اشتہار تھا اور اس میں ایک شخص کا بڑا سا چہرہ تھا جو شیو کرتا دکھایا گیا تھا ۔ میں نے سارے ٹکڑوں کو الٹا کیا اور اس آدمی کو جوڑنا شروع کیا اور چار منٹ کی مدت میں میں نے پور…

ٹھپہ

یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے توبہ کا ایک راستہ رکھا ہوا ہے۔ کئی آدمی کہتے ہیں کہ نفل پڑھیں، ورد وظیفہ کریں، لیکن یہ اس وقت تک نہیں چلے گا جب تک آپ نے اس کیے ہوئے برے کام سے توبہ نہیں کر لی۔ جیسے آپ کاغذ لے کے نہیں جاتے " ٹھپہ " لگوانے کے لیے۔۔۔۔ کوئی ٹھپہ لگا کر دستخط کر دے تو پھر آپ کا کام ہو جاتا ہے۔ اس طرح "توبہ" وہ ٹھپہ ہے جو لگ جاتا ہے اور بڑی آسانی سے لگ جاتا ہے ۔ اگر آپ تنہائی میں دروازہ بند کر کے بیٹھیں اور اللہ سے کہیں کہ "اللہ تعالیٰ پتہ نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا، مجھ سے یہ غلطی، گناہ ہو گیا تھا اور میں اس پر شرمندہ ہوں"۔ بس آپ سے معافی چاہتا ہوں، تو "ٹھپہ" لگ جاتا ہے۔۔۔۔


اشفاق احمد زاویہ 2 ماضی کا البم صفحہ42

مقناطیس

آپ تو در اصل مقناطیس ہیں اور مشکلات وہ لوہے کے ذرے ہیں جو آپ سے چمٹے ہیں۔ شہر بدلنے سے، لباس تبدیل کرنے سے، مزاج بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ وہ تو ایک خاص طرح کی رحمت ہوتی ہے۔ جو بندہ اللہ سے درخواست کرے کہ مجھ پر خصوصی فضل فرمایا جائے تا کہ میں اس عذاب سے نکلوں۔ تب نجات ملتی ہے لیکن چیزیں تبدیل کرنے سے یا چھوڑنے سے، یا نئی چیزیں اختیار کرنے سے ایسا ہوتا نہیں


اشفاق احمد زاویہ چیزوں کی کشش صفحہ 308

وظیفہ

کسی شخص نے رزق میں اضافہ کا وظیفہ پوچھا لیکن اگر وظائف پر روزی موقوف ہوتی تو دنیا میں ملاؤں سے زیادہ کوئی امیر نہ ہوتا ۔ لیکن وظیفہ تو اس معاملے میں الٹا اثر کرتا ہے ۔ کیونکہ دنیا ایک میل کچیل ہے اور نامِ خدا ایک صابن ۔ بھلا صابن سے میل کیونکر بڑہ سکتا ہے ۔ تم نے کسی وظیفہ خواں کے گھر پر ہاتھی گھوڑے موٹر گاڑی دیکھی ہے ۔ خدا کا نام تو صرف اس لیے ہے کہ اس کی برکت سے دنیا کی محبت دل سے دور ہو جائے۔ نہ اس لیے کہ دنیا میں اور زیادہ آلودہ ہو ۔ پھر اس کو ایک وظیفہ بتلا کر کہا گھر پر پڑھا کرنا خدا کے گھر میں دنیا طلبی کا کیا کام ۔ مسجد میں نہ پڑھنا ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 410

ہمارا اور ابلیس کا دکھ

ایک دفعہ کسی بزرگ نے دیکھا کہ بغداد کی دانہ منڈی کے باہر ایک پتھر کے اوپر شیطان بیٹھا رو رہا تھا۔ بزرگ بڑے حیران ہوئے، وہ اس کے قریب گئے اور کہنے لگے کے ابلیس کیا ہے۔۔ تو رو رہا ہے؟ اس نے کہا، جی میرا بہت برا حال ہے ۔ تو انھوں نے کہا نہ بھائی، تو نہ رو، تمھیں تو اتنے کام بگاڑنے ہیں لوگوں کے، اگر تو ہی رونے لگ گیا تو کیا ہو گا؟ اس نے کہا کہ، جی میرا کچھ دکھ ہے۔ بابا جی نے کہا کہ کیا دکھ ہے؟ کہنے لگا، جی میرا دکھ یہ ہے کہ میں اچھا ہونا چاہتا ہوں، وہ مجھ سے ہوا نہیں جاتا۔ تو یہ دکھ تو ہم سب کا ہے، ہم زور تو لگاتے ہیں بڑے کمال کی بات یہ ہے کہ ہم کس لیے اچھے ہونا چاہتے ہیں، ہوا نہیں جاتا؟ چاہیے یہ کہ ہم ہونے کی کوشش تو کریں، خواہش تو کریں کہ ہم اچھے ہو جائیں تو اس سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔ ہماری بات تو ہوتی رہتی ہے، گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے لیکن ہم روئے کبھی بھی نہیں۔ ابلیس ہم سے بہتر تھا کہ سچ مچ رو دیا، وہ بازی لے گیا۔


زاویہ سے اقتباس