نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

December, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تباہی کا سبب

آج سے کئی برس پہلے کی بات ہے ۔ میں ایک رسالہ دیکھ رہا تھا تو اس میں ایک تصویر نما کارٹون تھا ۔ جس میں ربڑ کی ایک بہت مضبوط کشتی گہرے سمندروں میں چلی جا رہی تھی ۔ اس ربڑ کی مضبوط کشتی کے ایک طرف سوراخ ہو گیا اور سمندر کا پانی کشتی میں داخل ہونے لگا ۔ کشتی میں جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے وہ ڈبے گلاس اور مگ لے کر یا جو کچھ بھی ان کے پاس تھا پانی نکالنے کی کوشش کرنے لگے ۔ اس کشتی کی دوسری سائیڈ پر جس طرف سوراخ نہیں ہوا تھا جو لوگ بیٹھے تھے انتہائی پرسکون نظر آ رہے تھے ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمیں بھی پانی نکالنا چاہیے لیکن اس کے ساتھیوں نے کہا دفع کرو یہ ہماری سائیڈ تھوڑی ہے ، اس سے ہمارا کیا تعلق وہ خود ہی نکال لیں گے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 روشنی کا سفر صفحہ 170

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

کھیڑے

جب آپ اللہ سے درخواست کرتے ہیں تو وہ خوش ہوتا ہے ۔ آپ کوئی درخواست لے کر اللہ کے " کھیڑے " پڑ جائیں ۔ اس کے پیچھے ہی پڑ جائیں ۔ جس طرح بچے اپنے والدین کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ بچوں کی طرح درخواست  کریں ، بلکیں اور اپنی بات  منوا کر ہی چھوڑیں ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 مرکزِ دعا صفحہ 317

خدا پر یقین

"ایک دن میں اپنے پوتے سے کہ رہا تھا کہ " بلال میاں ، میں اپنے الله کو مان کے مرنا چاہتا ہوں' وہ کہنے لگا کہ " بابا تم تو بہت اچھے آدمی ہو " میں نے کہا نہیں " مجھے میرے ابّا جی نہ کہا تھا کہ ایک الله ہوتا ہے - میں نے یہ بات مان لی اور الله کوئی ماننے لگا - "


میں الله کو خود سے ڈائریکٹ ماننا چاہتا ہوں - بس خدا پر یقین کی ضرورت ہے ، میرے ابّا جی بتایا کرتے تھے کہ ایک دن ان کے ہاں دفتر میں کام کرنے والے ملازم کی تنخواہ چوری ہو گئی تو سب نے کہا کہ یار بڑا افسوس ہے - تو وہ کہنے لگے کہ " خدا کا شکر ہے نوکری تو ہے " ایک ماہ بعد خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی نوکری بھی چلی گئی لوگوں اور ابا جی نے ان سے افسوس کیا تو کہنے لگے جی " خدا نے اپنا گھر دیا ہے ، اندر بیٹھ کر اچار روٹی کھالیں گے - الله کا فضل ہے - پرواہ کی کوئی بات نہیں - " یہ خدا کی طاقت تھی - مقدمے بازی میں کچھ عرصے بعد اس کا گھر بھی فروخت ہو گیا - وہ پھر بھی کہنے لگا کہ " فکر نہیں میرے ساتھ میری بیوی ہے - یہ بیالیس سال کا ساتھ ہے - " بیوی فوت ہوئی تو اس نے کہا کہ " …

سیلف

جو اپنا تجزیہ کرتے ہیں ان کو پتہ چلتا رہتا ہے  اپنے اس  " سیلف " کا جو لے کر انسان پیدا ہوا تھا  وہ محفوظ رکھا ہوا ہے یا نہیں ۔ گو ہم نے تو اپنے  " سیلف " کے اوپر بڑے بڑے سائن بورڈ لگا لیے ہیں ، اپنے نام تبدیل کر لئے ہیں ، اپنی ذات کے اوپر ہم نے پینٹ کر لیا ہے ۔ ہم جب کسی سے ملتے ہیں مثلاًمیں آپ سے اشفاق کی طرح نہیں ملتا میں تو ایک رائٹر، ایک دانشور، ایک سیاستدان، ایک مکار، ایک ٹیچر بن کر ملتا ہوں ۔  اس طرح جب آپ مجھ سے ملتے ہیں آپ اپنے سائن بورڈ مجھے دکھاتے ہیں ۔ اصل " سیلف " کہاں ہے وہ نہیں ملتی ۔ اصل " سیلف " جو اللہ نے دے کر پیدا کیا ہے ، وہ تب ہی ملتا ہے ، جب آدمی اپنے نفس کو پہچانتا ہے ۔ لیکن اس وقت جب وہ اکیلا بیٹھ کر غور کرتا ہے ۔  کوئی اس کو بتا نہیں سکتا اپنے نفس سے تعارف اس وقت ممکن ہے جب آپ اس کے تعارف کی پوزیشن میں ہوں اور اکیلے ہوں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا " ۔ 


اشفاق احمد زاویہ 2 صفحہ 45

نکتہ چینی

جب آپ کسی شخص پہ نکتہ چینی کرنا چھوڑ دیتے ہیں ، اس پر تنقید کرنا چھوڑ دیتے ہیں ، اس میں نقص نکالنا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ آدمی سارے کا سارا آپ کی سمجھ میں آنے لگتا ہے ۔ اور ایکسرے کی طرح اس کا اندر اور باہر کا وجود آپ کی نظروں کے سامنے آ جاتا ہے ۔



اشفاق احمد زاویہ 2 تنقید اور تائی کا فلسفہ صفحہ 63

عبادت میں تھیا تھیا

جب تک عبادت میں سیلیبریشن نہیں ہوگی ، جشن کا سماں نہیں ہوگا جیسے وہ بابا کہتا ہے " تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا " چاہے سچ مچ نہ ناچیں لیکن اندر سے اس کا وجود اور روح " تھیا تھیا " کر رہی ہو ۔ جب تک تھیا تھیا نہیں کرے گا بات نہیں بنے گی ۔ اس طرح سے نہیں کہ نماز کو لپیٹ کر " " چار سنتاں ، فیر چار فرض ، دو سنتاں ، دو نفل فیر تین وتر " چلو جی رات گذری فکر اترا ۔ نہیں جی ! یہ تو عبادت نہیں ۔ ہم تو ایسی ہی عبادت کرتے ہیں اس لیے تال میل نہیں ہوتا ۔



اشفاق احمد زاویہ 2 سلطان سنگھاڑے والا صفحہ 70

حقوق

اکثر لوگوں میں تکبر ہوتا ہے مگر ان کا نفس ان کو پتا نہیں چلنے دیتا ۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ان کی مرضی کے مطابق نہ کرے اور اس پر انھیں غصہ آئے ، تو وہ اس کی تاویل یہ پیش کرتے ہیں کہ چونکہ میرا اس شخص پر حق ہے اور اس نے حق ادا نہیں کیا اس لیے مجھے غصہ آگیا ۔اب کوئی ان سے یہ پوچھے کہ جن لوگوں کا آپ پر حق ہے اور آپ ان کے حقوق ادا نہیں کرتے تو پھر آپ کیساتھ کیا سلوک کیا جائے ۔ الله تعالیٰ جن کا آپ کی ایک ایک سانس پر حق ہے ، ان کے حقوق ادا کرتے وقت آپ کیا کرتے ہیں ؟


از اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٦١١

دیے سے دینا۔۔۔

رکشہ سے اترے تو میں نے رکشہ والے کو کچھ پیسے دیے ۔ اس کے کوئی تین روپے اسی پیسے بنتے تھے ۔ میں نے اس کو چار روپے دے دیے ۔ میں یہ سمجھا کہ میں نے بہت بڑا معرکہ مارا ہے تو بابا جی نے پوچھا ، پت پیسے دے دیے ؟ میں نے کہا دے دیے ۔ کہنے لگے کتنے دیے ؟ میں نے کہا چار روپے ۔ تو کہنے لگے کیوں ؟ میں نے کہا اس کے تین روپے پچاس پیسے یا اسی پیسے بنتے تھے میں نے اسے چار دے دیے ۔ انہوں نے کہا نہیں پنج دے دینے سی ۔ میں نے کہا پانچ ؟ مجھے بڑا دھچکا لگا کہ پانچ کیوں دے دوں ۔ میں نے کہا کیوں ؟ کہنے لگے تسیں وی تاں دتے وچوں دینے سی ، تسیں کہڑے پلیوں دینے سی ۔ (خدا کے دیے ہوئے پیسوں سے دینے تھے کون سی اپنی جیب سے ادا کرنے تھے )۔




اشفاق احمد زاویہ دیے سے دیا صفحہ 48

رکوع

میں نے ندی کنارے لڑکیوں کو پانی بھرتے دیکھا اور میں دیر تک کھڑا ان کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ پانی بھرنے کے لیے جھکنا پڑتا ہے اور رکوع میں جائے بغیر پانی نہیں بھرا جا سکتا ۔ ہر شخص کو رکوع میں جانے کا فن اچھی طرح سے آنا چاہیے تا کہ وہ زندگی کی ندی سے پانی بھر سکے ، اور سَیر ہو سکے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ انسان جھکنے اور خم کھانے کا آرٹ آہستہ آہستہ بھول رہا ہے اور اس کی زبردست طاقتور انا اس کو یہ کام نہیں کرنے دیتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری دعائیں اور ساری عبادت اکارت جا رہی ہے اور انسان اکھڑا اکھڑا سا ہو گیا ہے ۔ اصل میں زندگی ایک کشمکش اور جدوجہد بن کر رہ گئی ہے ۔ اور اس میں وہ مٹھاس ، وہ ٹھنڈک اور شیرینی باقی نہیں رہی جو حسن اور توازن اور ہارمنی کی جان تھی ۔ اس وقت زندگی سے جھکنے اور رکوع کرنے کا پر اسرار راز رخصت ہو چکا ہے ۔ اور اس کی جگہ محض جدوجہد باقی رہ گئی ہے ۔ ایک کشمکش اور مسلسل تگ و تاز ۔ لیکن ایک بات یاد رہے کہ یہ جھکنے اور رکوع میں جانے کا آرٹ بلا ارادہ ہو ورنہ یہ بھی تصنع اور ریاکاری بن جائے گا ۔ اور یہ جھکنا بھی انا کی ایک شان کہلائے گا ۔


اشفاق احمد بابا صا…

رائے

جب کوئی احمق شخص آپ سے کسی رائے کا طلبگار ہوتا ہے تو اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ آپ اس کو وہی رائے دیں ، جو اس کے ذہن میں ہے ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 547

اضطراب

غم اور اندوہ ایک ذہنی ویڈیو کیسٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ جو دیکھنے والا مریض بے خیالی میں اور بے احتیاطی میں لگا کر بیٹھ جاتا ہے ۔ اور تڑپتا رہتا ہے ۔ جہاں ذہنی ویڈیو نہیں وہاں اضطراب نہیں ۔ اس کا تجربہ کر کے دیکھ لو ۔ اگلی مرتبہ جب اضطراب اور بے چینی کا وقت آئے زور لگا کر اس ویڈیو کو آف کر دو ۔ اور اس فلم کو بند کر دو اس میں چاہے آپ کو ایک سیکنڈ کی کامیابی ہو آپ دیکھیں گے کہ وہ سیکنڈ پر سکون گذر گیا ۔ اور فلم کے بند ہوتے ہی مسرت پھیل گئی ۔ خوفناک فلم کے مزے لوٹنا بند کر دیں اور آپ ایک مختلف شخصیت بن جائیں گے ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 525

دکھوں کا البم

ایک زمانے میں ، میں ایک پرچہ ، رسالہ نکالتا تھا ۔ ماہنامہ بڑا خوبصورت رنگین " داستان گو " اس کا نام تھا ۔ تو ہماری مالی حالت درمیانی تھی ۔ لیکن اس پرچے کو نکالنا میں اپنا فرض سمجھتا تھا ۔ کیوں کہ لوگوں کو وہ بہت پسند آگیا تھا ۔ تو اتنے پیسے نہیں تھے ۔ ایک دفعہ اس کا کاغذ خریدنے کے لیے گیا ۔ یہاں ایک گنپت روڈ ہے ، وہاں پر کاغذ کی مارکیٹ ہے ۔ وہاں کاغذ خریدنے گیا تو کاغذ کا ایک رِم خریدا تو میرے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ میں اس کاغذ کے رِم کو کسی تانگے میں ، کسی رکشہ میں یا کسی ریڑھی میں رکھ کے لے آتا تو میں نے کاغذ کا رِم لیا اسے دوہرا کیا اور کندھے پر رکھ لیا ۔ بائیسکل میں چلاتا تھا بڑی اچھی بائیسکل تھی میرے پاس ۔ تو میں سائیکل پر سوار ہوگیا اور جب چلا تو انار کلی میں اُس وقت بھی خاصا رش ہوا کرتا تھا ۔ تانگے آ رہے ہیں،ریڑھے آ رہے ہیں، سائیکلیں اور جو بھی اس زمانے کی ٹریفک تھی وہ چل رہی تھی ۔ تو کرنا خدا کا کیا ہوا کہ وہ کاغذ کا جو رِم ہے ، اس کے جو بیٹن لگا ہوتا ہے اوپر کا ، مضبوط خاکی کاغذ وہ پھٹ گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے چھر۔ر۔ر۔ر۔ر۔کر کے پانچ سو کاغذ جو تھے و…

طالب خدا

انسان کو جس چیز میں کمال ہوتا ہے اس پر مرتا ہے ۔ چنانچہ دھنتر دید کو سانپ پکڑنے میں کمال تھا ، اس کو سانپ نے کاٹا اور مر گیا ۔ ارسطو سل کی بیماری میں مرا ۔ افلاطون فالج میں ۔ لقمان سرسام میں اور جالینوس دستوں کے مرض میں حالانکہ انہیں بیماریوں کے علاج میں کمال رکھتے تھے ۔ اس طرح جس کو جس سے محبت ہوتی ہے اسی کی خیال میں جان دیتا ہے ۔ قارون مال کی محبت میں مرا ، مجنوں لیلیٰ کی محبت میں ۔ اسی طرح طالبِ خدا کو خدا کی طلبی کی بیماری ہے وہ اسی میں فنا ہو جاتا ہے ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 409

عبادت اور مزاق

زمانے نے عجب پلٹا کھایا ہے ۔ پچھلے لوگ چھپ کر عبادت اس لیے کرتے تھے کہ کہیں شہرت نہ ہو جائے اور اب اس لیے چھپا کر کرتے ہیں کہ کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں۔



اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 615

گھمنڈ

حضور بڑے گناہ کیے ۔ بڑے عیب کمائے ، بڑی بربادیاں کیں ، لیکن اب رحمتوں کے دروازے کھل گئے ۔ اب پاکی ہی پاکی ہے ۔ صفائی ہی صفائی ہے ۔ سارے گناہ چھوڑ دیے ۔ سارے جھوٹ ، اپرادھ ۔ پاپ کناس دفع کر دیے ۔ ساری بدی برائی چھوڑ دی ، سارے گناہ جھاڑ دیے ۔ بابا جی نے بڑی محبت سے کہا ! جہاں اتنا زور لگا کر بدی برائی چھوڑ دی ہے ، اب یہ نیکی بھی چھوڑ دو اور آزاد ہو جاؤ۔ اس نئے گھمنڈ سے تو وہ پرانے والا تکبر ہی اچھا تھا ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 373

گھن

ہمارے بابے کہا کرتے ہیں کہ باہر کے جسم کو بیماریوں سے بچانے کے لئے اپنے اندر کو بیماریوں سے مبرا کرنا چاہیے ۔ درخت جس کے اندر بیماری ہو اور اسے گھن لگا ہوا ہو اور اندر ہی اندر سے وہ کھوکھلا ہوتا جا رہا ہو ، اور ہم اس کی اصل بیماری کا علاج کرنے کے بجائے اسے باہر سے سپرے کرتے رہیں ۔ اسے روشنیاں یا بلب لگا دیں تو ہم اس سے درخت کی اندر کی بیماری کو نہیں روک سکتے ۔ وہ تب ہی ٹھیک ہوگا جب ہم اس کی جڑوں یا تنوں کی مٹی کھود کر اس میں چونا ڈالیں گے ، کیڑے مار ادویات ڈالیں گے ، اور اسے پانی دیں گے ۔ ایسا ہی انسان کا حال ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنی روح کے اندر اپنا احاطہ ضرور کریں ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 پندرہ روپے کا نوٹ صفحہ 48

کنٹرول

میری تائی کہا کرتی تھیں کہ تم لوگوں کے منہ بند نہیں کر سکتے وہ جو چاہیں گے کہیں گے۔ پھر لوگوں کے ذہنوں پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ صرف اپنے ذہن پر ہوتا ہے اور بیوقوف لوگ اپنے ذہن پر کنٹرول کے بجائے دوسروں کے ذہنوں پر طاقت آزمائی شروع کر دیتے ہیں۔ جب آپ کو یہ بات سمجھ آ گئی تو پھر آپ کو لوگوں کی تنقید اور تبصرہ کبھی بھی تکلیف نہیں دے گا۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 514

دوسروں پر نظر

ہم لوگوں کی، اوروں کے چھوٹے چھوٹےعیوب پر نظر ہے اور اپنے بڑے بڑے عیوب دکھائی نہیں دیتے۔ اپنے بدن پر سانپ بچھو لٹک رہے ہیں، ان کی پرواہ نہیں اور ہم دوسروں کی مکھیاں اڑانے کی فکر میں ہیں۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 615

ذکر خدا

ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ تم کو سوائے اللہ کے ذکر کے اطمینانِ قلب نصیب ہی نہیں ہو سکتا ۔ جب تک خدا کا ذکر نہیں کرو گے( جلی یا خفی ) اس وقت تک اطمینانِ قلب کی دولت نصیب نہیں ہوگی ۔ لوگ کہتے ہیں اور عام کہتے ہیں کہ خالی ذکر کوئی معنی نہیں رکھتا ، اس کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہے کیونکہ عمل کے بغیر کوئی راست قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ محض ہو حق سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ ایک ہی بات کو بار بار دہرانے سے آپ کے مقصد کا حصول نہیں ہوتا ۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اگر املی کا نام لینے سے منہ میں پانی آجاتا ہے تو خدا کا نام لینے سے وجود پر کوئی اثر بھی مرتب نہیں ہوگا ؟ ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی ۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا ۔ آخر میں وہاں کے سیانے کو کو بلا کر مریضہ کو دکھایا گیا اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ کا ورد شروع کر دیا ۔ طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے ! تعجب !۔ اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش ! تم سب لوگ گدھے ہواور احمق…

نکتہ چینی

خواتین و حضرات ! اگر خوش رہنا ہے تو نکتہ چینی چھوڑ دیں ۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ۔ ایک روز ہم کو اسی معیار سے جانچا جائے گا جو معیار ہمارے لیے طے کر دیا گیا ہے ۔ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ کیونکہ جب آپ کسی کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو آپ کی تین انگلیاں خود آپ کی جانب اٹھ جاتی ہیں ۔ پھر فائدہ ! ۔ ۔ ۔




اشفاق احمد زاویہ 3روح کی سرگوشی صفحہ 311

خالی زندگیاں

بہت سے لوگوں کے پاس دین کا اور نفسیات کا بڑا علم ہوتا ہے ۔ لیکن ان کی زندگیاں بڑی خالی ہوتی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف باہرکا علم انسان کے اندر کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ہر شخص جانتا ہے کہ ظلم سے ظلم پیدا ہوتاہے پھر بھی ہر شخص دوسرے پر ظلم کرتا ہے ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 532

اللہ کا فضل، بندے۔۔۔

اصل میں آج تک میرے سارے کام انسانوں نے ہی کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لطف بے پایاں اور خیرِ کثیر کے مجھ تک پہنچنے کا سامان ہمیشہ بندوں نے ہی کیا ہے ۔ بیماری میں میرا علاج کسی انسان نے کیا ۔ با عزت طور پر بری کسی انسان نے کیا ۔۔۔۔۔ نعمتیں ہمیشہ بندے ہی اٹھا کر ، دھو کر ، کاٹ کر ، سجا کر لائے ۔ جب اللہ نے مجھے خوش کرنا چاہا تو لوگوں سے ہی تالی بجوائی ۔ جب مجھے محبت عطا کرنی چاہی تو کسی شخص سے ہی مجھے جپھی ڈلوائی ۔ جب میں نے سفر کا ارادہ کیا تو ایک بندے کو ہی میرا پائلٹ بنایا ۔ مجھے پیسوں کی ضرورت پڑی تو پے کلرک نے ہی مجھے پیسے لا کر دیے ۔ لیمن جوس مجھے ہمیشہ ایئر ہوسٹس نے پلایا ۔ اور میاں محمد بخش صاحب کے شعر مجھے بندے نے ہی سنائے ۔ اس کا فضل اور اس کا کرم ہمیشہ مجھے کسی انسان کی معرفت ہی پہنچا ۔


اشفاق احمد از بانو قدسیہ مردِ ابریشم صفحہ 64

دلچسپ مخلوق

انسان بڑی دلچسپ مخلوق ہے۔ یہ جانور کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا لیکن انسان کو مصیبت میں دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ یہ پتھر کے بتوں تلے ریشم اور بانات کی چادریں بچھا کر ان کی پوجا کرتا ہے لیکن انسان کے دل کو ناخنوں سے کھروچ کر رستا ہوا خون چاٹتا ہے۔ انسان اپنی کار کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کا ماتھا پونچھتا اور اس کے پہلو چمکاتا ہے اور میلے کچیلے آدمی کو دھکے دے کر اس لیے پرے گرا دیتا ہے کہ کہیں ہاتھ لگا کر وہ اس مشین کا ماتھا نہ دھندلا کر دے۔ انسان پتھروں سے، مشینوں سے اور جانوروں سے تو پیار کر سکتا ہے لیکن انسانوں سے نہیں۔۔۔۔


اشفاق احمد  شہرِ آرزو