نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشفاق احمد کے متعلق

Ashfaq Ahmed, PP, SI (Urdu: اشفاق احمد) (August 22, 1925 – September 7, 2004) was a distinguished writer, playwright, broadcaster, intellectual and spiritualist from Pakistan. His prime qualities of heart and hand earned appreciations across the borders. He was regarded by many as the best Urdu Afsana (short-story) writer after Saadat Hasan Manto, Ismat Chughtai and Krishan Chander following the publication of his famous short-story "Gaddarya" - The Shepherd in 1955.

Life and career

Ahmed was born on 22 August 1925 in Garhmukteshwar village, Ghaziabad, British India. He obtained his early education in his native district. Shortly before independence in 1947, he migrated to Pakistan and made the Punjab metropolis, Lahore as his abode. He completed his Masters in Urdu literature from Government College Lahore. Bano Qudsia, his wife and companion in Urdu literary circles who is also one of the best novelists of Urdu, was his classmate at Government College.

After Partition, when Ashfaq Ahmed arrived at the Walton refugee camp with millions of other migrants, he used to make announcements on a megaphone around the clock. Later, he got a job in Radio Azad Kashmir, which was established on a truck that used to drive around in various parts of Kashmir. He then got lectureship at Dayal Singh College, Lahore for two years. Whereafter, he went to Rome to join Radio Rome as an Urdu newscaster. He also used to teach Urdu at Rome university. During his stay in Europe, he got diplomas in the Italian and French languages from the University of Rome and University of Grenoble, France. He also got special training diploma in radio broadcasting from New York University.

He started writing stories in his childhood, which were published in Phool [Flower] magazine. After returning to Pakistan from Europe, he took out his own monthly literary magazine, Dastaango [Story Teller], and joined Radio Pakistan as a script writer. He was made editor of the popular Urdu weekly, Lail-o-Nahar [Day and Night], in place of famous poet Sufi Ghulam Mustafa Tabassum by the Government of Pakistan.

In 1962, Ashfaq Ahmed started his popular radio program, Talqeen Shah [The Preacher] which made him immensely popular among the people in towns and villages. It was a weekly feature that ran for three decades, the longest weekly radio show in the subcontinent. He was appointed director of the Markazi Urdu Board in 1966, which was later renamed as Urdu Science Board, a post he held for 29 years. He remained with the board until 1979. He also served as adviser in the Education Ministry during Zia-ul-Haq's regime. In the 60s, he produced a feature film, Dhoop aur Saie [Shadows and Sunshine], which was not very successful at the box office.


Ashfaq Ahmed's subtle sense of humour is reflected in his long-running radio programs and characters like "Talqeen Shah", while several TV drama series based on his memorable plays of three decades ago are still enjoyed by the audience. Their appeal lies in the universal truths of life portrayed in human hopes, emotions, aspirations and relationships that touch the soul of people of all age groups. His popular TV plays include Aik Muhabbat Sau Afsanay [Bunch of Love Stories], Uchhay Burj Lahore Dey [Barbicans of Lahore], Tota Kahani [Story of the Parrot] , Lekin [But], Hairat Kadah [Incredibility] and Mun Chalay Ka Sauda [Bargain of the Stubborn]. All through his life, Ashfaq Ahmad endeavored to reform the society through his writings. He had authored over twenty five books including a travelogue, Safar dar Safar [Long Way Journey], with an atypical style. In fact, he gave a new mold to diction and locale situations, many of his fans would fondly remember. He used Punjabi literary words very well in Urdu and introduced a new kind of prose, which was unique to him. For his excellent literary work, he was awarded President's Pride of Performance and Sitara-i-Imtiaz for meritorious services in the field of literature and broadcasting.

Besides his personality as a great author of impressive and laudable books, Ashfaq Ahmed, in his later period of life, was greatly inclined towards sufism, which was visibly reflected in most of his works. His close association with Qudrat Ullah Shahab and Mumtaz Mufti was also attributed for this tendency. Of-late, he used to appear in a get together with his fans in television's program 'Baittakh' [The Guest Room] and 'Zaviya' [The Dimension] wherein he gave swift but satisfying responses to each and every query, placed before him, explicitly by the youth of each gender, in a mystic style.


Ashfaq Ahmed died on 7 September 2004 at the age of 79, of pancreatic cancer.


* Aik hi boli - ایک ہی بولی
* Aik Mohabbat 100 Dramey - ایک محبت سو ڈرامے
* Aik Muhabbat So Afsaney - ایک محبت سو افسانے
* Arz-e-musannif - عرض مصنف
* Aur Dramey - اور ڈرامے
* Band Gali - بند گلی
* Baba Sahiba - بابا صاحبا
* Dhandoraa - Talqeen Shah | ڈھنڈورہ - تلقین شاہ
* Gadaria - Ujlay Phool | گڈریا - اجلے پھول
* Gulldan - گلدان
* Hairat Kaadah - حیرت کدہ
* Hasart-e-Tameer - حسرت تعمیر
* Jung Ba Jung - جنگ بہ جنگ
* Khail Tamasha - کھیل تماشہ
* Khatiya Watiyaa - Poetry | کھٹیا وٹیا - شاعری
* Man Chaley Ka Soda - من چلے کا سودا
* Mehmaansaraey - مہمانسرائے
* Nangey Paoon - ننگے پاؤں
* Safar Dar Safar - سفر درسفر
* Safar e Maina - سفر مینا
* Shahla Kot - شاہلا کوٹ
* Shehre Aarzoo - شہر آرزو
* Shora Shori - Talqeen Shah | شورا شوری - تلقین شاہ
* Subhaey Ifsaney - صبحانے افسانے
* Talism Hosh Afza - طلسم ہوش افزا
* Tota Kahani - توتا کہانی
* Uchay Buraj Lahore Dey - اچے برج لہور دے
* Waday e Jang - ودائے جنگ
* Zaviya - زاویہ
* Zaviya - 2 - زاویہ 
* Zaviya - 3 - زاویہ
* Zaviya - 4 - زاویہ
* Zaviya - 5 - زاویہ
* Zaviya - 6 - زاویہ
- Academy of Letters on his life and works in 1998 (ISBN-969-472-112-1.)

اشفاق احمد
وکیپیڈیا سے

پیدائش: 22 اگست، 1925ء

انتقال: 7 ستمبر، 2004ء
اشفاق احمد

اردو افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار ۔ نثر نگار ۔لاہور میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے، اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔

وہ انیس سو سڑسٹھ میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ وہ انیس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گۓ۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے اور انیس سو ترپن میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔

ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ انیس سو پینسٹھ سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔

ساٹھ کی دہائی میں اشفاق احمد نے دھوپ اور سائے نام سے ایک نئی طرح کی فیچر فلم بنائی جس کے گیت مشہور شاعر منیر نیازی نے لکھے اور طفیل نیازی نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی اور اداکار قوی خان اس میں پہلی مرتبہ ہیرو کے طور پر آئے تھے۔ اس فلم کا مشہور گانا تھا اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامیاب ہوگئی۔

ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی اور اسی کی دہائی میں ان کی سیریز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا میں وہ تصوف کی طرف مائل ہوگۓ اور ان پر خاصی تنقید کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں میں پلاٹ سے زیادہ مکالمے پر زور دیتے تھے اور ان کے کردار طویل گفتگو کرتے تھے۔

کچھ عرصہ سے وہ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویے کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔ جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دال میں کالا۔۔۔

اصل میں بات یہ ہے کہ جب کسی نے یہ کہا کہ یہاں غلط ہے۔ اس جگہ دال میں کچھ کالا ہے تو آپ نے فوراً اسے تسلیم کر لیا - اس کے آگے سر جھکا دیا- جب کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ اچھا ہے۔ یہ خوب ہے۔ یہ نیکی ہے۔ تو تم رک جاتے ہو - ماننے سے انکار کر دیتے ہو - خاموش ہو جاتے ہو- برائی پر تم کو پورا یقین ہے - سو فیصد اعتماد ہے- شیطان پر اور ابلیس پر پورا یقین ہے - لیکن خدا پر نہیں۔۔۔۔ ایک محاورہ ہے کہ، 'یہ اتنی اچھی بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی'- یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی کہے کہ یہ اتنی بری بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی- بہت بری اور بہت خراب بات کبھی بھی غلط نہیں لگتی - ہمیشہ ٹھیک ہی لگتی ہے- تم نے انسانیت پر اس قدر بے اعتباری شروع کر دی ہے، اس قدر بے اعتمادی کا اظہار کر دیا ہے کہ اب تم کو انسانوں کی طرف سے اچھی خبر ٹھیک ہی نہیں لگتی۔ اگر کوئی آکرآپ سے یہ کہے کہ فلاں نے معراج انسانیت حاصل کر لی ہے اور جلوہ حقیقی سے روشناس ہو گیا ہے ، تو تم کبھی یقین نہیں کرو گے۔ سنو گے اور کہو گے یہ سب افسانہ ہے- گپ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کو جلوہ حقیقی نظر آجائے جب کہ ہم کو کبھی نظر نہیں آیا- جس چیز کا تجرب…

تعلق کیا شے ہے؟

یہ بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضح نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ کو اندر ہی اندر یہ یقین محکم رہتا ہے کہ "آپ کی آگ" میں سلگنے والا کوئی دوسرا بھی موجود ہے، دہرا وزن آدھا رہ جاتا ہے۔

غلط فہمی

ایک شام ہم لندن میں فیض صاحب کے گرد جمع تھے اور ان کی شاعری سن رہے تھے ۔ انہوں نے ایک نئی نظم لکھی تھی اور اسے ہم بار بار سن رہے تھے ۔ وہاں ایک بہت خوبصورت ، پیاری سی لڑکی تھی ۔ اس شعر و سخن کے بعد " سیلف " کی باتیں ہونے لگیں ۔ یعنی " انا " کی بات چل نکلی اور اس کے اوپر تمام حاضرین نے بار بار اقرار و اظہاراورتبادلہ خیال کیا ۔ اس نوجوان لڑکی نے کہا فیض صاحب مجھ میں بھی بڑا تکبر ہے اور میں بھی بہت انا کی ماری ہوئی ہوں ۔ کیونکہ جب صبح میں شیشہ دیکھتی ہوں تو میں سمجھتی ہوں کہ مجھ سے زیادہ خوبصورت اس دنیا میں اور کوئی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فیض صاحب کو بڑی " سینس آف ہیومر " دی تھی ۔ کہنے لگے بیبی ! یہ تکبر اور انا ہر گز نہیں ، یہ غلط فہمی ہے ۔ ( انہوں نے یہ بات بالکل اپنے مخصوص انداز میں لبھا اور لٹا کے کی ) وہ بیچاری قہقہے لگا کے ہنسی ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 تکبر اور جمہوریت کا بڑھاپا صفحہ 104

قدرتی طرز زندگی۔۔۔

آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔ یہ یقین اس لیے ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی، نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ین اور یانگ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں، جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔ (گلائیڈر جہازوں کے پائلٹ اس راز کو خوب سمجھتے ہیں) وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ پہاڑ پہ اوپر ہی اوپر جانا زندگی سے نیچے آنا موت ہےئ۔ وہ زندگی بھر ایک نفسیاتی لڑائی لڑتا رہتا ہے اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتا ہے۔ ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو آسان راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے خوف سے کانپتا رہے وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے ا…


دیکھو مجھے نظر تو نہیں آتا مگر میرا ایمان ہے کہ اس کمرے میں ریڈیو کی لہریں بھری پڑیں ہیں ۔ ٹی وی کی لہریں ناچ رہی ہیں اور میں ریڈیو پر یا ٹی وی پر اپنی پسند کا سگنل پکڑ سکتا ہوں ۔ اسی طرح سے میرا ایمان ہے کہ یہاں خدا کی آواز اور خدا کے احکام موجود ہیں اور میں اپنی ذات کے ریڈیو پر ان سگنلوں کو پکڑ سکتا ہوں لیکن اس کے لیے مجھے اپنی ذات کو ٹیون کرنا پڑیگا ۔ اور ایمان کیا ہے؟ خدا کی مرضی کو اپنی مرضی بنانا۔۔۔ ایک اختیار ہے، پسند ہے۔ کوئی مباحثہ یا مکالمہ نہیں۔ یہ ایک فیصلہ ہے مباحثہ نہیں ہے۔ یہ ایک کمٹمنٹ ہے کوئی زبردستی نہیں ہے۔ یہ تمہارے دل کے خزانوں کو بھرتا ہے اور تمہیں مالا مال کرتا رہتا ہے۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 540