نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کتب



اشفاق احمد کی کتب ڈاؤن لوڈ کریں۔ 
Download Books by Ashfaq Ahmed

Aik hi boli - ایک ہی بولی
Aik Mohabbat 100 Dramay - ایک محبت سو ڈرامے
Aik Muhabbat So Afsaney - ایک محبت سو افسانے
Arz-e-musannif - عرض مصنف
Aur Dramey - اور ڈرامے
Band Gali - بند گلی
Baba Sahiba - بابا صاحبا
Dhandoraa - Talqeen Shah - ڈھنڈورا، تلقین شاہ
Gadaria - Ujlay Phool - گڈریا - اجلے پھول
Gulldan - گلدان
Hairat Kaadah - حیرت کدہ
Hasart-e-Tameer - حسرت تعمیر
Jung Ba Jung - جنگ بہ جنگ
Khail Tamasha - کھیل تماشہ
Khatiya Watiyaa (Poetry) - کھٹیا وٹیا (شاعری)۔
Man Chaley Ka Soda - من چلے کا سودا
Mehmaansaraey - مہمانسرائے
Nangey Paoon - ننگے پاؤں

Phulkari - پھلکاری 
Safar Dar Safar - سفر در سفر
Safar e Maina - سفر مینا
Shahla Kot - شاہلاکوٹ
Shehre Aarzoo - شہر آرزو
Shora Shori - Talqeen Shah - شورا شوری (تلقین شاہ)۔
Subhaey Ifsaney - صبحانے افسانے
Talism Hosh Afza - طلسم ہوش افزاء
Tota Kahani - توتا کہانی
Uchay Buraj Lahore Dey - اچے برج لہور دے
Waday e Jang - ودائے جنگ
Zaviya - 1 - زاویہ
Zaviya - 2 - زاویہ
Zaviya - 3 - زاویہ

    اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

    "بغداد کا نوجوان "

    بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
    وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
    اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

    "مشکلات"

    اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

    اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

    " نا شکری "

    پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
    ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
    اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15