نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کتب



اشفاق احمد کی کتب ڈاؤن لوڈ کریں۔ 
Download Books by Ashfaq Ahmed

Aik hi boli - ایک ہی بولی
Aik Mohabbat 100 Dramay - ایک محبت سو ڈرامے
Aik Muhabbat So Afsaney - ایک محبت سو افسانے
Arz-e-musannif - عرض مصنف
Aur Dramey - اور ڈرامے
Band Gali - بند گلی
Baba Sahiba - بابا صاحبا
Dhandoraa - Talqeen Shah - ڈھنڈورا، تلقین شاہ
Gadaria - Ujlay Phool - گڈریا - اجلے پھول
Gulldan - گلدان
Hairat Kaadah - حیرت کدہ
Hasart-e-Tameer - حسرت تعمیر
Jung Ba Jung - جنگ بہ جنگ
Khail Tamasha - کھیل تماشہ
Khatiya Watiyaa (Poetry) - کھٹیا وٹیا (شاعری)۔
Man Chaley Ka Soda - من چلے کا سودا
Mehmaansaraey - مہمانسرائے
Nangey Paoon - ننگے پاؤں

Phulkari - پھلکاری 
Safar Dar Safar - سفر در سفر
Safar e Maina - سفر مینا
Shahla Kot - شاہلاکوٹ
Shehre Aarzoo - شہر آرزو
Shora Shori - Talqeen Shah - شورا شوری (تلقین شاہ)۔
Subhaey Ifsaney - صبحانے افسانے
Talism Hosh Afza - طلسم ہوش افزاء
Tota Kahani - توتا کہانی
Uchay Buraj Lahore Dey - اچے برج لہور دے
Waday e Jang - ودائے جنگ
Zaviya - 1 - زاویہ
Zaviya - 2 - زاویہ
Zaviya - 3 - زاویہ

    اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

    "مشکلات"

    اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

    اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

    " نا شکری "

    پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
    ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
    اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

    "بے عزت "

    میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
    ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
    لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…